سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 105
۱۰۵ اس وقت اس دال روٹی نے جو لطف دیا وہ زندگی کے قیمتی اور پُر لطف لمحات میں بھی کم محسوس ہوا ہے۔چونکہ صبح حضور کی تشریف آوری تھی اس لئے سائبانوں اور خیمہ جات کو درست کیا گیا اور انہی کے ڈھیر پر ہم دراز ہو گئے۔تمام رات بلا کھٹکے اور نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ ہم سوئے۔مجھے تو کچھ ہوش نہیں رہا البتہ مکرم مولوی صاحب نے فرمایا کہ دور سے کچھ گیدڑوں اور بھیڑیوں کی آوازیں آتی تھیں بس۔لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے بہر حال ہمیں ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رکھا۔" (الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۴۸ء) ۱۹۔ستمبر کو ہی ایک دوسرا قافلہ مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب کی امارت میں لاہور سے ربوہ کیلئے روانہ ہوا جو صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ۳۴ کارکنوں پر مشتمل تھا۔مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب اس تاریخی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔دعاؤں کے بعد ہم ۱۹۔ستمبر ۱۹۴۸ء کو پانچ بجے شام کراؤن بس کی ایک گاڑی پر روانہ ہوئے۔شیخوپورہ کی سڑک برسات کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی اس لئے لائل پور (فیصل آباد) کے رستہ سے ہم رات گیارہ بجے چنیوٹ پہنچے۔رات سڑک پر گزاری اور صبح ایک چھکڑے پر سامان لاد کر کچھ پیدل اور کچھ ایک ٹانگہ میں بیٹھ کر ساڑھے آٹھ بجے اس خطہ زمین پر پہنچے جسے بہت جلد بڑا اعزاز حاصل ہونے والا تھا۔" ۲۰۔ستمبر کو مولانا عبد الرحمن انور صاحب وکیل الدیوان بھی تحریک جدید کا ریکار ڈ لیکر اس وادی غیر ذی زرع میں پہنچ گئے۔ان خوش قسمت کارکنوں نے چھ رہائشی خیموں اور ایک بڑے خیمہ پر مشتمل ایک عارضی بستی حضور کی آمد سے پہلے پہلے آباد کر دی اور جنگل میں منگل کا سماں ہو گیا۔۲۰۔ستمبر کو ہی حضرت فضل عمر لا ہو ر سے براستہ فیصل آباد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور بعض دوسرے بزرگوں کی معیت میں دوپہر کے وقت ربوہ پہنچ گئے۔اور ربوہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی اس بابرکت تاریخی موقع پر اڑھائی تین سو احمدیوں نے حضور کی امامت میں نماز ادا کی۔حضور نے اپنے افتتاحی خطاب کے آغاز میں فرمایا۔میں اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا ئیں جو مکہ مکرمہ کو بساتے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی تھیں۔پڑھوں گا۔"