سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 85 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 85

AB نہیں روکیں گے بشرطیکہ وہ ان قواعد کی پابندی کرے جو اس کے منتظم انتظام کے لیے مقرر کریں اور بشر طیکہ وہ ان لوگوں کی عبادت میں محل نہ ہوں جو اپنی مذہبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس مسجد کو بناتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ رواداری کی روح جو اس مسجد کے ذریعہ سے پیدا کی جاوے گی دُنیا سے فتنہ و فساد دور کرنے اور امن و امان کے قیام میں بہت مدد دے گی اور وہ دن جلد آجائیں گے جبکہ لوگ جنگ و جدال کو ترک کر کے محبت اور پیار سے آپس میں رہیں گے۔اور سب دنیا اس امر کو محسوس کرے گی کہ جب سب بنی نوع انسان کا خالق ایک ہی ہے تو ان کو آپس میں بھائیوں اور بہنوں سے بھی زیادہ محبت اور پیار سے رہنا چاہیئے اور بجائے ایک دوسرے کی ترقی میں روک بننے کے ایک دوسرے کو ترقی کرنے کے لیے مدد دینی چاہیئے۔۔در حقیقت گل جھگڑے خدا تعالیٰ سے دُوری کا نتیجہ میں اور حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام بانی جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اسی غرض سے دُنیا میں بھیجا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں تا کہ اہمی اختلافات پر سے نظر ہٹ کر موجبات اتحاد کی طرف لوگوں کی توجہ پھر جاتے پس جماعت احمدیہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی تمام ان نسلی جنگوں اور سیاسی جنگوں کو مٹانے میں کوشاں رہے گی۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہر ملک و مذہب کے نیک دل لوگ ان کوششوں، میں اس کے مدد گار ہوں گے۔الفضل ۲۰ نومبر ۲۳ ( حضور نے اس یاد گار تقریب کے موقع پر جو کتبہ مسجد کی دیوار میں اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا اس پر مندرجہ ذیل دعائیہ کلمات اردو اور انگریزی ہر دو زبانوں میں درج تھے۔اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ لسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم هُوَ ا لن خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اصر قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ جس کا مرکز قادیان (پنجاب) ہندوستان ہے۔خدا کی رضا کے حصول کے لیے اور اس غرض سے کہ خدا کا ذکر