سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 60
حضرت میر قاسم علی صاحب۔جناب شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور - جناب خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل۔حضور نہ خوب جانتے تھے کہ عشاق احمدیت مرکز میں علمی وروحانی رہنمائی کے حصول کے لیے بڑی کثرت سے آتے ہیں۔اور حضور نے پسند نہ فرمایا کہ آپ کی قادیان سے غیر حاضری کے عرصہ کے لیے بھی یہ مفید سلسلہ بند ہو۔چنانچہ آپ نے علمی و روحانی سیرانی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے مسجد اقصیٰ میں قرآن مجید اور حدیث شریف کا باری باری درس دینے کے لیے علی الترتیب حضرت مولوی شیر علی صاحب اور حضرت سید سرور شاہ صاحب کو مقررہ فرمایا۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب نے قادیان سے روانگی سے لندن پہنچنے تک حضور کے پرجوش خیر مقدم کے متعلق انتہائی اختصار سے کام لیتے ہوئے تحریر کیا ، قادیان سے بہتی تک کے ہندوستان کے الوداعی نظارے اور دشتق اور لندن کے پر جوش خیر مقدم صرف دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اخبارات نے سفید عمامے والے نائب صیح اور اس کے سبز عمامہ والے بارہ حواریوں کی تصویر یں مع سلسلہ کے حالات اور خصوصیات کے دُنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیں۔لندن وکٹوریہ سٹیشن سے آپ اور آپ کی جماعت ہوتی ہوئی سینٹ پال کے عظیم الشان اور انگلستان کے سب سے بڑے گر جا کے سامنے پہنچی اور اس کے سامنے ٹھہر کر خدائے ذوالجلال سے اسلام و توحید کی فتح کی دُعا کر کے شہر میں داخل ہوئی۔مکان آپ کے لیے نہایت معزز محلہ میں پہلے سے لیا گیا تھا۔وہاں سب لوگ فروکش ہوتے اس مکان کا نام CHE SHAM ( تاریخ مسجد فضل لندن صدا ) PALACE تھا " خوش قسمت اصحاب قافله : - اس تاریخی یادگار سفر میں مندرجہ ذیل اصحاب کو حضور رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال - حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب در در حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔حضرت ذو الفقار علی خان صاحب - حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب ، حضرت بھائی عبدالرحمان قادیانی صاحب - شیخ عبدالرحمان مصری صاحب - چوہدری علی محمد صاحب۔میاں رحم دین صاحب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب انگلستان سے حضور کے ساتھ شامل ہوتے اور حضور کے ترجمان کی