سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 50
اسی طرح ذیلی مجالس مجلس انصار الله - خدام الاحمدیہ - اطفال الاحمدیہ۔لجنہ اما الد اور ناصرات الاحمدیہ کا انتظام تجویز کیا گیا کہ تمام مجالس اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے دائرہ کار میں پوری طرح آزاد بھی ہیں اور جماعت کے افراد ہونے کے لحاظ جماعتی تنظیم سے پوری طرح والبستہ اور منسلک اور ایک دوسرے کی تقویت کا باعث بھی۔حضرت مصلح موعود ی نظیمی صلاحیتوں اور تدبر کا یہ منہ بولتا شاہکار ہے جس کا حسن مرور زمانہ اور تجربات و مشکلات کی بھٹی میں سے گزرنے کے ساتھ اور نکھرتا چلا جاتا ہے۔آیئے اس سلسلہ میں حضور کے ارشادات سے استفادہ کریں۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ مقامی انجمن کے بازو ہیں۔اور ہماری غرض ان کے قیام سے یہ ہے کہ جماعت ترقی کرے۔پس آپس میں تعاون کی روح پیدا کرد۔خدام الاحمدیہ کی تنظیم تمہارے لیے ٹرینگ کے طور پر ہے تا کہ جب تمہیں خدمت کا موقعہ ملے تو تم میں اتنی قابلیت ہو کہ تم امیر بن جاؤ یا سیکرٹری بن جاؤ۔اس لیے تمہیں جماعت کے عہدیداروں سے بجائے ٹکراؤ کے تعاون سے کام لینا چاہیئے ؟ الفضل ۱۸ اکتوبر ۹۶ ) بر مجلس کے دائرہ عمل کی حدود اور باہمی تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : " ہر احمدی جو چالیس سال سے کم عمر کا ہے وہ خدام الاحمدیہ کا نمبر ہے ہر احمدی جو چالیس سال سے اوپر ہے وہ انصار اللہ کا ممبر ہے اور ہر احمدی جو چالیس سال سے نیچے یا چالیس سال سے اوپر ہے وہ مقامی انجمن کا بھی مہر ہے۔اس سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں کہ وہ جماعت احمدیہ مقامی کے مبر نہیں ہیں۔یا انصار اللہ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ جماعت احمدیہ کے مقامی ممبر نہیں ہیں بلکہ خدام الاحمدیہ اور انصار الله کے مجموعے کا نام مقامی انجمن ہے " الفضل ۳۰ ر جولاتی ۱۹۳۵ ) مجلس خدام الاحمدیہ کا نظام میں نے الگ بنا دیا ہے اور ان کا الگ مرکز قائم ہے۔میں چاہتا ہوں کہ نوجوان اپنے پاؤں پر آپ کھڑے ہو جائیں۔ان میں خود کام کرنے کی اور اپنی ذمہ داری محسوس کرنے کی عادت پیدا ہو جائے۔امیر جماعت مجلس کے نظام میں دخل نہیں دے سکتا۔اگر وہ کوئی خامی دیکھے تو مجلس کے مرکز میں رپورٹ کر سکتا ہے۔اگر اسے کوئی کام لینا ہو تو