سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 45 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 45

کی آواز قرار دے کر اس سے بے اعتنائی برتی ہے اور جب کسی امر کی طرف توجہ دلائی جائے تو اس کی طرف سے یہی جواب دیا جاتا ہے کہ اس کے متعلق پبلک میں کوئی اینی میشن نہیں۔اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر وہ جماعت جو یہ بھتی ہے کہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ اسے قانونی مد کے اندر رہتے ہوئے حکومت کے پاس اپنا معاملہ پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیتے اُسے لازم ہے کہ موجودہ انہین سے الگ ایک ایسی انجمن بنائے جس میں کوئی سرکاری ملازم نہ ہو الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۵ ) آل انڈیا نیشنل لیگ کا مرکزی دفتر لاہور میں قائم کیا گیا اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ اس کے صدر مقرر ہوتے۔۔۔۔۔کے صدر اس انجن کے ساتھ ایک ذیلی تنظیم آل انڈیا مینل لیگ کور کے نام سے بھی قائم کی گئی۔جس کے ناظم جیش اور سالا را عظم چوہدری اسد اللہ خان صاحب بارایٹ لا تجویز کئے گئے۔اس کورکا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے احمدی نوجوانوں میں تنظیم کی روح پھونکی اور اس کے ذریعہ وہ جماعتی اور قومی معاملات میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگے۔کور کے زمہ جو کام بھی کیا گیا وہ ایسی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا گیا کہ حضور نے ان کے کام کی متعدد مرتبہ تعریف فرمانی مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام سے ان مختلف تنظیموں کا کام مستقل طور پر زیادہ بہتر رنگ میں ہونے لگا۔جماعت کے اندر مختلف ذیلی تنظیموں کی اہمیت اور ضرورت سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے صدر انجمن احمدیہ مجلس شوری اور انجمن احمدیہ تحریک جا جیسی بنیادی تنظیموں کی موجودگی میں مختلف ذیلی تنظیمیں کیوں قائم کیں اور ان کی ضرورت کیا تھی ؟ اس اہم سوال کا جواب ہم خود حضور کے الفاظ میں بیان کرنا چاہتے ہیں حضور نے اپنے مختلف خطبات میں اس کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- دوستوں کو معلوم ہے کہ میں نے جماعت کو تین حصوں میں منظم کرنے کی ہدایت کی تھی ایک حصہ اطفال الاحمدیہ کا یعنی ۱۵ سال تک کی عمر کے لڑکوں کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ کا یعنی ۱۵ سے ۴۰ سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا اور ایک حصہ انصار اللہ کا جو چالیس سال سے اوپر کے ہوں۔خواہ کسی عمر کے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ نوجوان جو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوا۔اس نے ایک قومی جرم کا ارتکاب