سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 337 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 337

واقفین کو با قاعدہ ڈائری کی صورت میں اپنی ہر روزہ کی تمام مصروفیات کو ضبط تحریر میں لاکر پندرہ روزہ ریپور کی شکل میں حضور کی خدمت میں پیش کرنا ہوتا تھا۔حضور سے مہر پندرہ روز کے بعد ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی تھی جس میں رپورٹوں کا جائزہ لینے کے علاوہ آئندہ لائحہ عمل کے متعلق ہدایات جاری ہوتیں۔واقفین کو محنت مشقت کی عادت ڈالنے کے لیے بعض خصوصی پروگرام جن میں پیدل چلنا اور بعض دوسری مشقیں شامل تھیں۔حضور کی زیر ہدایت بناتے جاتے تھے۔ایسے خوش قسمت واقفین کو بعد میں تبلیغ و اشاعت اسلام کے میدان میں غیر معمولی خدمات بجالانے کی توفیق ملی اور وہ ہمیشہ اپنی اس ابتدائی تربیت کا خوشی سے ذکر کرتے اور اس کے عملی زندگی میں مفید و با برکت اثرات و نتائج بیان کیا کرتے تھے۔حضور نے اپنے ایک ابتدائی خطاب میں واقفین زندگی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : " یہ مت خیال کرو کہ دنیوی دولت کے نہ ہونے کی وجہ سے تم ذلیل ہو جاؤ گے ذلیل وہی ہوتا ہے جو آدھا خدا کا ہوتا ہے اور آدھا شیطان کا اور آدھا تیتر آدھا بیٹر خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔مگر وہ جو دنیا کی محبت اپنے دل سے بالکل نکال دیتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے بادشاہت ملی تو میں بادشاہت سے لوں گا اور اگر فقیری ملی تو فقیری قبول کر لوں گا۔اگر تخت ملا تو تخت پر بیٹھ جاؤں گا اور اگر پھانسی کا تختہ ملا تو اس پھانسی کے تختہ پر چڑھ جاؤں گا۔ایسے شخص کو کوئی نہیں جو ذلیل سمجھ سکے یہ خود کسی کے پاس اپنی کوئی غرض لے کر جائے گا نہیں اور جو اس کے پاس آتے گا وہ اس سے کوئی علمی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہی آئے گا۔اور اگر یہ سچا مومن ہے تو یہ خترانہ اس کے پاس اس کثرت سے ہو گا کہ باوجود خرچ کرنے کے ختم ہونے میں نہیں آتے گا۔پس دین کی خدمت اور خدا تعالیٰ کی محبت میں ہر قسم کی عزت ہے۔بشرطیکہ دنیا کا در عجب دل سے مٹ جاتے اور خدا تعالیٰ کا رعب دل پر چھا جائے۔اور دراصل ایسے شخص کا وقت ہی حقیقی وقف ہے۔) الفضل دسمبر ة ) A ۱۹۲۵ء میں اپنے ایک خطاب میں حضور نے تبلیغ اسلام کے کام کی وسعت اور واقفین کی ضرورت کے متعلق نہایت موثر انداز میں فرمایا :- "حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ اسلام کرنے کے لیے ہمیں لاکھوں