سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 32
دیتے اور اگر دیں تو اس کا تدارک کریں۔دوسرے اس تنظیم کے ماتحت اطفال الاحمدیہ میں سے ہر ایک کو کھیلنے کا موقعہ مل سکے گا۔اب تو کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ امراء کے تڑکے آپس میں مل کر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔اور غرباء کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔مگر اس تنظیم کے ماتحت غربا بہ کو بھی کھیلوں میں شریک کیا جا سکے گا اور اس طرح ان کے دلوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو گا کہ وہ قوم کا جزو اور اس کا ایک حصہ ہیں۔یہ نہیں سمجھنا چاہیتے کہ جو لڑ کے کھیلوں میں حصہ نہیں لیتے وہ اس لیے حصہ نہیں لیتے کہ کھیلنا نہیں چاہتے بلکہ کئی اس لیے کھیلوں میں شریک نہیں ہوتے کہ امراء انہیں حقارت کی وجہ سے اپنے اندر شامل نہیں کرتے۔ان کا دل اندر سے کڑھتا ہے مگر وہ کچھ کر نہیں سکتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی محبت میں بیٹھنے لگ جاتے ہیں اور اخلاقی لحاظ سے نقصان اُٹھاتے ہیں اسی طرح اور بیسیوں خرابیاں ہیں جو اس لیے پیدا نہیں ہوتیں کہ لڑکے کھیلتے ہیں بلکہ اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ کھیلوں میں ان کی نگرانی نہیں کی جاتی۔پس خدام الاحمدیہ کا فرض ہوگا کہ وہ کھیلوں میں اطفال کی نگرانی کریں اور نہ صرف پہلے سے زیادہ اچھی اور زیادہ عمدہ کھیلیں انہیں کھلائی جائیں۔بلکہ ایسی نئی نئی کھیلیں ایجاد کی جائیں جو بچوں کی دلچسپی کا موجب ہوں۔اور ان کی آئندہ ترقی کے لیے مفید ہوں۔۔۔۔اگر خدام الاحمدیہ چاہیں تو وہ آنکھوں اور کانوں اور ناک اور زبان کے میٹ کے متعلق ایسی ایسی دلچسپ کھیلیں ایجاد کر سکتے ہیں کہ لڑکے ٹوٹ پڑیں اور وہ بڑے شوق سے ان میں حصہ لینے لگ جائیں۔یہ امر یاد رکھو کہ اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے لڑکوں کو افسردہ دل اور افسردہ دماغ بناؤ۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔الصبح صبى ولو كان نبیا۔یعنی بچہ بچہ ہی ہوتا ہے خواہ اس نے بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جانا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے متعلق بھی ثابت ہے کہ آپ بچپن میں کبھی چڑیوں کا شکار کرتے کبھی غلیلیں بناتے اور کبھی سواری سیکھتے۔پس اطفال الاحمدیہ کا قیام صرف اس لیے نہیں ہوا کہ اطفال جمع ہوں اور یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔بے شک نماز پڑھنا بھی اطفال کے لیے ضروری ہے، لیکن جو بچے نماز نہیں پڑھتے۔در حقیقت ان کے ماں باپ مجرم ہوتے ہیں مگر بہر حال یہ ایسی چیز ہے جس کی نگرانی ان کے ماں باپ کر سکتے ہیں۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ جو مدد دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کھیل کود کے وقت انکی نگرانی کریں۔جبکہ