سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 307
پابندی صرف ان لوگوں کے لیے ہو گی جو اپنے نام مجھے بتا دیں۔۔۔۔۔۔لباس کے متعلق میرے ذہن میں کوئی خاص بات نہیں آتی۔ہاں بعض عام ہدایات میں دیتا ہوں۔مثلاً یہ کہ جن لوگوں کے پاس کانی کپڑے ہوں وہ ان کے خراب ہو جانے تک اور کپڑے نہ بنوائیں۔پھر جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنواتے ہیں وہ نصف پر یاتین چوتھائی پریا ہے پر آجاتیں ہاں سب سے ضروری بات عورتوں کے لیے یہ ہوگی کہ محض پسند پر کپڑا نہ خریدیں۔۔۔۔بلکہ ضرورت ہو تو خریدیں۔دوسری پابندی عورتوں کے لیے یہ ہے کہ اس عرصہ میں گوٹہ کناری فیتہ وغیرہ قطعا نہ خریدیں۔تیسری شرط اس مد میں یہ ہے کہ جو عورتیں اس عہد میں اپنے آپ کو شامل کرنا چاہیں وہ کوئی نیا زیور نہیں بنوائیں گی اور جو مرد اس میں شامل ہوں وہ بھی عہد کریں کہ عورتوں کو نیا زیور بنوا کر نہیں دیں گے۔پرانے زیور کو تڑوا کر بنانے کی بھی ممانعت ہے۔۔۔۔۔جب ہم جنگ کرنا چاہتے ہیں تو روپیہ کو کیوں خواہ مخواہ ضائع کریں۔خوشی کے دنوں میں ایسی جائز باتوں سے تم نہیں روکتے ، لیکن جنگ کے دنوں میں ایک پیسہ کی حفاظت بھی ضروری ہوتی ہے۔ہاں ٹوٹے ہوئے زیور کی مرمت جائز ہے۔۔۔۔۔- علاج کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اطباء اور ڈاکٹر سستے نسخے تجویز کیا کریں۔پانچواں خرج سینما اور تماشے ہیں۔ان کے متعلق میں ساری جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ تین سال تک کوئی احمدی کسی سینما سرکس۔تھیٹر وغیرہ غرضیکہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے۔۔۔۔۔چھٹا شادی بیاہ کا معاملہ ہے چونکہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے۔اس لیے میں یہ حد بندی تو نہیں کر سکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ہاں اتنا مد نظر رہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم کر دی جائیں۔جو شخص اپنی لڑکی کو زیادہ دینا چاہیے وہ کچھ زیور کپڑا اور باقی نقد کی صورت میں دے دے۔ساتواں مکانوں کی آرائش و زیبائش کا سوال ہے اس کے متعلق بھی کوئی طریق میرے ذہن میں نہیں آیا۔ہاں عام حالات میں تبدیلی کے ساتھ اس میں خود بخود تبدیلی ہو سکتی ہے۔جب غذا اور لباس سادہ ہوگا تو اس میں بھی خود بخود لوگ کی کرنے لگ جائیں گے۔پس میں اس عام نصیحت کے ساتھ کہ جو لوگ اس معاہدہے میں شامل ہوں وہ آرائش و زیباتش پر خواہ مخواہ روپیہ ضائع نہ کریں۔اس بات کو چھوڑتا ہوں۔۔۔۔۔۔آٹھویں چیز۔