سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 30
وم ہیں۔ان پر جو نقش بناتے جاتے ہیں وہ پائیدار اور دائمی ہوتے ہیں۔پیدائش کے وقت بچے کے کان میں اذان دینے میں بھی یہی بہتر ہے کہ شروع سے ہی اس کے کان میں اللہ اور اس کے رسول کا نام ڈال دیا جائے اور یہ صداقت اس کے ذہن میں پوری طرح مرتسم ہو جائے۔حضور نے جماعت اور خدام کو خطاب کرتے ہوئے ایک اور موقعہ پر فرمایا: " میں جماعت کے دوستوں کو بالخصوص مرکزی مجلس خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ کہ نوجوانی میں بے شک خدمت دین کا کام کرنا اچھا ہوتا ہے کیونکہ ادھیڑ عمر میں بعض دفعہ انسان ان کاموں کے کرنے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر ایک اور کام ہے اور وہ یہ کہ بچوں کے اندر بھی یہی جذبات اور یہی خیالات پیدا کئے جائیں کیونکہ بچپن میں ہی اخلاق کی داغ بیل پڑتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض کاموں کی داغ بیل جوانی میں پڑتی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض کاموں کی داغ بیل بچپن میں پڑتی ہے۔۔عادت کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے اور علم کا زمانہ جوانی کا زمانہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔بہر حال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہ بنے اور ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہتیں۔مگر یہ امر مد نظر رکھنا چاہتے کہ ان بچوں کے نگران نوجوان نہ ہوں۔بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ کو اس مقصد کے ماتحت اپنے اندر کچھ بوڑھے نو جوان بھی شامل کرنے چاہیں۔یعنی ایسے لوگ جن کی عمریں گو زیادہ ہوں مگر ان کے دل جوان ہوں۔اور وہ خدمت دین کے لیے نہایت بشاشت اور خوشی سے کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ایسے لوگوں کے سپرد بچوں کی نگرانی کی جائے اور ان کے فرائض میں یہ امر داخل کیا جائے کہ وہ بچوں کو پنج وقتہ نمازوں میں باقاعدہ لائیں۔سوال و جواب کے طور پر دینی اور مذہبی مسائل سمجھائیں۔پریڈ کرائیں اور اسی طرح کے اور کام اُن سے لیں جس کے نتیجہ میں محنت کی عادت پنج کی عادت اور نماز کی عادت ان میں پیدا ہو جائے۔اگر یہ تین عادتیں ان میں پیدا کر دی جائیں تو یقیناً جوانی میں ایسے بچے بہت کارآمد اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں پیس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے۔سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور نمازوں کی باقاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں۔اگر کوئی قوم چاہتی ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی زوح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچے کو نماز کی عادت ڈالے۔اسی طرح سچ کے بغیر