سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 298 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 298

۲۹۸ ہوئی جو مولانا روم نے فرمائی ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است یعنی ہر آفت جو مسلمانوں پر آتی ہے اس کے نیچے ایک خزانہ مخفی ہوتا ہے۔یہیں یقیناً یہ بھی ایک خزانہ تھا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا کہ جماعت کو بیدار کر دیا۔اور جو لوگ شست اور غافل تھے ان کو بھی چوکنا کر دیا۔پس یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو دنیوی نگاہ میں مصیبت تھا۔مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک رحمت تھا۔اور میں نے نہیں چاہا کہ اس سے صرف موجودہ نسل ہی حصہ ہے۔بلکہ یہ چاہا کہ آئندہ نسلیں تھی اس سے حصہ پائیں۔اور میں نے اس سکیم کو ایسا رنگ دیا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس طریق پر نہیں جو شیعوں نے اختیار کیا ہے بلکہ عقل سے اور اعلی طریق پر جو خدا کے پاک بندے اختیار کرتے آتے ہیں۔اسے یاد رکھ سکیں اور اس سے فائدہ اُٹھا سکیں " الفضل ۱۳ دسمبر ۳۲ ) تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرماتی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کر کے مجھے حاصل ہوئی۔اور یقیناً میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی۔اس وقت جماعت کے دل ایسے تھے جیسے چلتے گھوڑے کو جب روکا جائے تو اس کی کیفیت ہوتی ہے " الفضل ۸ فروری ) ہر حال حکومت، احرار اور بعض دوسرے عناصر کی ملی بھگت سے فتنہ کی جو اگ جماعت احمدیہ کے خلاف بھڑک اُٹھی تھی اسے بجھانے اور اس کے بداثرات سے جماعت کو بچانے کے لیے حضرت امام جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے تھے کہ الہی القامہ کے ذریعہ قوموں کو برکت بخشنے والی زندگی بخش سکیم آپ کے قلب صافی پر مرتسم ہوئی۔اس عجیب و غریب رُوحانی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :-