سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 29 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 29

۲۹ کے نتیجے میں انہیں نوکریاں مل جائیگی، نوکریاں قوم کو کھلانے کا موجب نہیں ہوتیں بلکہ نوکر ملک کی دولت کو کھاتے ہیں، اگرتم تجار میں کرتے تو صنعتوں میں حصہ لیتے ہو۔ایجادوں میں لگ جاتے ہو توتم ملک کو کھلانے ہو۔اور یہ صاف بات ہے کہ کھلانے والا کھانے والے سے بہتر ہوتا ہے۔نوکریاں بیشک ضروری ہیں لیکن یہ نہیں کہ ہم سب نوکریوں کی طرف متوجہ جو جائیں ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پیشے اختیار کریں ، تاکہ ملک کو ترقی حاصل ہوئی الفضل ۱۴ دسمبر ۹۵ ) اسی طرح ایک اور موقعہ پر فرمایا :- میں نے پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ ہر خادم کو کوئی نہ کوئی ہنر آنا چاہئے پڑھنا لکھنا غیر طبعی چیز ہے اور ہر ایک طبعی چیز ہے جو ہر جگہ کام آسکتی ہے۔مثلاً معماری ہے لوہاری ہے نجاری ہے یا اسی قسم کے اور پیتے ہیں۔پیشہ ور ہر جگہ اپنے گزارے کی صورت پیدا کر لیتا ہے اور لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔آپ کو اگر اچھی عربی آتی ہو اور آپ افغانستان چلے جائیں تو آپ کی کوئی قیمت نہیں، لیکن اگر آپ لوہار کا یا نجار کا کام جانتے ہیں۔یا آپ درزی ہیں یا آپ جوتا بنانا جانتے ہیں تو آپ کی بڑی قیمت ہے۔اسی طرح آپ کو اچھی انگریزی آتی ہے اور آپ آزاد علاقے میں چلے جائیں تو آپ کی کوئی قیمت نہیں۔لیکن اگر آپ لو ہارا کام جانتے ہیں یا اچھے بڑھٹی ہیں تو وہ آپ کو سر پر اٹھا لیں گے۔یہی حال جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہے۔وہاں بھی محض علم کی کوئی قیمت نہیں۔لیکن اگر آپ کو کوئی پیشہ آتا ہے تو آپ کی بڑی قیمت ہے -- --- لیس ایک تو نو جوانوں کو تعلیمی ڈگریوں کی طرف توجہ کرنی چاہیتے اور دوسرے نہیں کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنا چاہیئے۔الفضل یکم اگست ة ) کا شعبہ اطفال :- جولائی نگاہ میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ کوحکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سال سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کو منظم کریں اور " اطفال الاحمدیہ " کے نام سے ان کی جماعت قائم کریں کیونکہ یہ بچے دراصل مجلس خدام الاحمدیہ کی نرسری ہیں۔آگے پیکر انی بچوں نے مجلس کے کام سنبھالنے ہیں۔اس لیے شروع سے ہی ان کی ایسی ٹرینینگ ہونی چاہیئے کہ وقت آنے پر وہ اپنے آپ کو ان اہم ذمہ داریوں کے اُٹھانے کا اہل ثابت کریں جو بھی خدام الاحمدیہ کا رکن بننے کی حیثیت سے اُن پر عائد ہوتی ہیں۔بچپن میں انسان کے دل و دماغ کی تختیاں صاف ہوتی