سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 285
میاں فضل حسین صاحب نے جو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے نمبر اور ایک بیدار مغز مسلمان رہنما تھے حضور کے جراتمندانہ موقف کے مقابل پر یہ دیکھتے ہوتے کہ حکومت کے افسران نقصان نے پر آمادہ ہیں اس معاملہ میں مزید غور و فکر اور باہم غلط فہمیوں کے دُور کرنے کی کوشش کا مشورہ دیا۔حضور نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے نام ایک خطہ میں تحریر کیا۔" اگر جماعت اس فعل کو بلا احتجاج اور اصلاح چھوڑ دے تو امام جماعت احمدیہ کوئی کام کر ہی نہیں سکتا۔سلسلہ کے ہر افسر کی غلطی پر اسے نوٹس ملے گا ہر احمدی کی غلطی پر اسے نوٹس ملے گا وہ صرف نوٹسوں کا ہدف بنا رہے گا۔۔۔۔جماعت احمدیہ ہرگز اس امر کی مدعی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنے امام کو حکومت کی رعایا ہونے کے مقام سے بالا سمجھتی ہے نہ میں بحیثیت امام جماعت احمدیہ اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھتا ہوں میرا نظریہ یہ ہے کہ مجھے دوسروں سے زیادہ قانون کا پابند ہونا چاہیئے، تاکہ میں دوسروں کے لیے نمونہ بنوں۔۔۔۔۔پس یہ ایک ایسی غلطی ہے جیسے جماعت احمدیہ کی طرح برداشت نہیں کر سکتی اور اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ حکومت تسلیم کرے کہ اس سے یہ غلطی ہوتی ہے۔میرا پروگرام ہی ہے کہ پہلے حکومت پنجاب سے اپیل کروں گا پھر حکومت ہند سے پھر حکومت انگلستان سے۔اگر کہیں داد خواہی نہ ہوئی پھر جو علاج ممکن ہوا کروں گا۔۔۔" تاریخ احمدیت جلد ہفتم صفحه ۵۱۵ - ۵۱۷ ) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت پر حقائق و واقعات کے برعکس محض تعصب و دشمنی کی راہ سے یہ الزام بڑے اصرار اور تکرار سے لگایا جاتا ہے کہ یہ جماعت انگریزوں کی خوشامدی اور کاسہ لیس ہے۔پھر اتنے جھوٹ کو کافی نہ سمجھتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ جماعت انگریزوں کی جاسوس ہے اور جھوٹ کے دوزخ کی شکم سیری نہ ہونے کی وجہ سے اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ جماعت تو انگریزوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کھڑی کی تھی۔ان جھوٹوں کو سہارا دینے کے لیے دُور دُور کی کوڑیاں ملائی جاتی ہیں اور علما " اس کوشش میں رہتے ہیں کہ جھوٹ کی سٹری میں کوئی دوسرا ان سے آگے نہ نکل جاتے اور اس طرح ھل من مزید کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے حالانکہ ایک غیر جانبدار صحیح العقل انسان کے لیے یہ سمجھنا بہت ہی آسان ہے