سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 262
۲۶۲ خیر کشمیر" شیخ محمد عبداللہ نے لکھا: ایک عریضہ ارسال خدمت کر چکا ہوں۔اب پھر التماس ہے کہ میری رائے ناقص میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کام برابر جاری رکھا جاتے اور جو کمیٹی پہلے بنی تھی وہ برابر کام کرے۔یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ اس کی ہر سیاسی جماعت کی خود غرضی باہم اتفاق کو نقصان پہنچا کر ساری قوم کو نقصان پہنچانے کے لیے اور نیز اس انجمن کو ختم کر دینے کے لیے اسباب پیدا کر دیتی ہے۔آل انڈیا کشمیر کیٹی کو ضرور کام کرنا تاریخ احمدیت جلد ها صفحه ۲۲۷-۲۲۸) چاہیے" استعفی کے بعد خدمات کا تسلسل : حضور نے کشمیر کیٹی کی صدارت کسی لالچ اور غرض سے تو حاصل نہیں کی تھی۔بلکہ بی نصب باصرار آپ کے حوالہ کیا گیا تھا۔اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کی خدمت تھا۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے آپ ہمیشہ اپنے تمام ذرائع و وسائل کو بروئے کارلاتے رہے اور اس سلسلہ میں ہر مفید و ضروری کام میں شامل ہوتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ آزادی وطن کے معاً بعد جب پاکستانی لیڈروں کو نئے اور بے سروسامان ملک کو چلانے اور جوق در جوق آنے والے لٹے پٹے مہاجرین کی آبادی و بحالی کی مصروفیت در پیش تھی۔آپ نے آزادی کشمیر کے عظیم مقصد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک نہایت موثر اور قابل عمل طریق کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا :- کشمیر اور حیدر آباد کا فیصلہ اکٹھا اور ایک ہی اُصول پر ہونا چاہیئے ورنہ ڈر ہے کہ دونوں ہی ہاتھ سے نکل جائیں۔اگر حکمران کی مرضی پر فیصلہ ہو تو ہمیں حیدر آبادل جائیگا اور اگر رعایا کی مرضی پر ہو تو ہمیں کشمیر مل جاتے گا۔اگر اکٹھا فیصلہ نہ ہو تو اس سے مسلمانوں کو سخت نقصان ہوگا۔کیونکہ ایک فیصلہ کو اپنے حق میں کرا کے انڈین یونین پھر اپنا اصول بدل کر دوسری ریاست کے بارے میں جھگڑا کر سکتی ہے۔بالآخر آپ نے فرما یا گو حیدر آباد اور کشمیر دونوں کا سوال اہم ہے مگر بعض لحاظ سے میرے خیال میں کشمیر کا معاملہ بہت زیادہ اہم ہے۔خصوصاً اس لیے کہ اس سے پاکستان کی حفاظت اور مضبوطی پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے۔الفضل ۱۷ اکتوبر ) اگر اس تجویز پر موثر رنگ میں عمل ہوتا تو یقینی طور پر کشمیر پاکستان کے ساتھ شامل ہوتا۔اور وہ بے شمار نقصانات جو مسئلہ کشمیر کے صحیح طور پر حل نہ ہونے کی وجہ سے تمہیں اُٹھانے پڑے ان سے بیچ جانے کی وجہ سے پاکستان اپنے موجودہ مقام سے کہیں آگے اور بہتر ہوتا۔