سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 252
۲۵۲ سلم پریس میں بھی انکے ان کارناموں کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔یہاں پر صرف دو اقتباس بطور مثال درج کئے جا رہے ہیں۔" اختر علی ابن ظفر علی خان مالک زمیندار دو ہزار کا ایک چیک امپریل بنک سرینگر سے بھنانے کے بعد لاہور روانہ ہو گیا اور ریاست کے حقوق میں پراپیگنڈہ کرنے کے لیے وعدہ کر گیا۔" انقلاب لاہور اگست سست۔(بحوالہ کشمیر کی کہانی مت ) " ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مصیبت کے وقت غدار اور قوم فروش اخبار "زمیندار" یہ کونسی خدمت انجام دے رہا ہے کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے سارا اخبار قادیانیت کے جھگڑے میں سیاہ کر کے ہماری پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ہم خوب جانتے ہیں کہ مسٹر اختر علی خان نے کشمیر میں آکر اور سرکاری مہمان بن کر اپنی عاقبت کس طرح خراب کی ہے۔اب ہمارے بڑے خیر خواہ بن کر آریہ اخبارات کی کسی طرح حمایت شروع کر رکھی ہے ؟" ر انقلاب در ستمبر راستہ )۔(بحوالہ کشمیر کی کہانی من نے مشہور کشمیری لینڈ رشیخ محمد عبداللہ نے آل انٹرا کشمیر کیٹی کی کوشش کے نتیجہ میں جیل سے رہا ہے کے بعد حضور کی خدمت میں مندرجہ ذیل خط لکھا : " مکرم و معظم جناب حضرت میاں صاحب السلام علیکم ورحمة الله و بركاته ! سب سے پہلے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں تہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔اس بے لوث اور بے غرضانہ کوشش اور جدوجہد کے لیے جو آپ نے کشمیر کے درماندہ مسلمانوں کے لیے کی۔پھر آپ نے جس استقلال اور محنت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو لیا۔۔۔۔۔مجھے اُمید رکھنی چاہیئے کہ آپ نے جس ارادہ اور عزم کے ساتھ مسلمانان کشمیر کے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد فرماتی ہے۔آئندہ بھی اسے زیادہ کوشش اور زیادہ توجہ سے جاری رکھیں گے۔آخر میں میں پھر آپکا شکر یہ ادا کرتے ہوئے اس عریضیہ کو ختم کرتا ہوں۔میں ہوں آپ کا تابعدار شیخ محمد عبد الله" ( تاریخ احمدیت جلد ا م )