سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 232 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 232

۲۳۲ مسلمانوں کو اس ذلت سے بچائیں۔جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں اور کشمیر والوں نے ایک انجین سات آدمیوں کی ایسی بناتی ہے۔جس کے ہاتھ میں سب کا ہم دے دیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ انجمن اپنے میں سے کسی کو یا اپنے حلقہ سے باہر سے کسی شخص کو نمائندہ مقرر کر کے بھیج دے۔اسی طرح گاؤں کے علاقوں سے بھی نمائندے بلوائے جا سکتے ہیں۔اگر ریاست کشمیر کی طرف سے روک کا احتمال ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان نمائندوں کا علم بھی کسی کو نہ دیا جائے لیکن اگر بفرض محال ہم کشمیر سے نمائندے طلب نہ بھی کر سکیں۔تو پھر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ایک دو معتبر آدمیوں کو اپنی طرف سے کہ بھجوا دیں۔وہ بہت معروف نہ ہوں اور نہ ان کے نام شائع کئے جائیں کشمیر پہنچ کر وہ کشمیر کی انجمن اور دوسرے علاقوں کے سر بر آوردہ لوگوں سے مشورہ کرکے ان کے خیالات کو نوٹ کر کے لیے آئیں اور کانفرنس میں ان سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔کا نفرنس کی ہیئت ترکیبی بہر حال کشمیر کے حقیقی مطالبات کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔کیونکہ مختلف علاقوں میں مختلف طور سے ظلم ہو رہا ہے۔اور ہم دور بیٹھے اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔لیکن باوجود اس کے میرا یہ مطلب نہیں کہ اگر کشمیر کے نمائندے نہ آسکیں۔تو ہم کوئی کام ہی نہ تحریں۔اگر ان سب تجاویز میں سے کسی پر بھی کم نہ ہو تو بھی ہمیں کانفرنس کرنی چاہیئے۔جو باشندگان کشمیر کشمیر سے باہر ہیں۔وہ کہ کشمیری نہیں ہیں۔ہم ان کی مدد سے جس حد تک مکمل ہو سکے اپنی سکیم تیار کر سکتے ہیں۔یہ ضروری ہے کہ یہ کانفرنس تمام فرقوں اور تمام اقوام کی نمائندہ کا نفرنس ہو۔تاکہ متفقہ کوشش سے کشمیر کے سوال کو حل کیا جائے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس غرض کے لیے ان مسلمانوں کو بھی ضرور دعوت دینی چاہیتے جو کانگرس سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ لوگ اس کام میں دوسرے مسلمانوں سے پیچھے رہیں گے۔پبلسٹی کمیٹی کی ضرورت سیاست کے مضمون نگار صاحب نے ایک پلیسی کمیٹی کشمیر کے قیام کی بھی تجویز کی ہے۔میں اس سے بالکل متفق ہوں اور یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں میں کشمیر کے دوستوں کو پہلے سے لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو کامیاب