سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 21
M ممد و معاون ثابت ہوں۔نوجوان محنت کے عادی ہوں۔ہاتھ سے کام کرنے کو عار نہ سمجھیں۔سادہ زندگی کو پسند کریں۔جسمانی ورزش میں وہ کبھی کوتاہی نہ کریں۔صحت مند مشاغل سے دلچسپی رکھیں اور مسابقت نی روح پیدا کریں۔اور حواس خمسہ کو زیادہ سے زیادہ تیز اور حساس بنانے کی کوشش کریں۔صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔گھر اور اس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔خوش اسلوبی اور سلیقہ مندی سے ہر کام سرانجام دیں۔نگاہ بلند اور نظر میں وسعت ہو۔عزت نفس اور خود داری کا ہمیشہ خیال رکھیں۔مطالعہ اور غور وفکر کی عادت ہو۔اعلیٰ تعلیم کا شوق ہو۔جن میں شوق اور ملکہ ہو وہ پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دیں۔اظہار خیال اور تقریر و تحریر کا ملکہ ہو علمی اور دینی موضوعات پر صحت مندانہ گفتگو کا شوق ہو۔ان میں مشورہ دینے کی اہلیت ہو۔ووٹ کا صحیح استعمال جانتے ہوں بلک و مدت اور مخلوق خدا کی خدمت کا جذبہ ہو۔قومی زبان اور اسلامی ثقافت سے محبت ہو۔خدام خود بھی بیکاری سے بچیں اور دوسروں کو بھی اس مہلک مرض سے بچائیں۔آوارگی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : کھیلنا آوارگی میں داخل نہیں۔۔۔۔۔ورزش انسان کے کاموں کا حصہ ہے۔ہاں گلیوں میں بیکار پھر نا گاتے ہوتے گذرنا۔بے کار بیٹھے باتیں کرنا اور بخشیں کرنا۔آوارگی ہے اور ان کا انسداد خدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔اگر تم لوگ دنیا کو وعظ کرتے پھرو لیکن احمدی بچے آوارہ پھرتے رہیں تو تمہاری سب کوششیں رائیگاں جائیں گی۔" مشعل راه صفحه ۱۱۶ - ۱۱۷ )۔محنت - استقلال اور قربانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا : " آج میں جماعت کے نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کو اپنے اند رفت اور قربانی کی عادت پیدا کرنی چاہیئے اوراس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا چاہتے کسی قوم کی حالت ترقی پذیر نہیں ہوسکتی جب تک اس قوم کے خواص و عوام میں محنت اور قربانی کی عاد نہ ہو۔دنیا میں کئی شکلوں میں مشکلات اور کئی صورتوں میں ابلا آتے رہتے ہیں مگر ان سب کا جواب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ استقلال اور بہادری سے ایسی مشکلات کا مقابلہ کیا جائے مگر یہ روح تبھی پیدا ہو سکتی ہے جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوتے ان کے مطابق کام بھی کریں یعنی جتنی زیادہ ذمہ داریاں ہوں اتنا ہی زیادہ کام بھی کیا جائے۔1941 ) الفضل ١٦ متى ١٩٦١۔(