سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 167 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 167

ند 144 میں نے بیعت نہیں کی تھی اس لیے میں اُن سے کہتا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔بالآخر جیلہ میرے پاس آئے اور میرا خط مع بیعت فارم کے اُن کے پاس تھا مجھ سے بڑی ہی ہمدردانہ گفتگو کی کہ یہ آپ کیا رہے ہیں۔قرآن کی اس تفسیر کو چھوڑیئے میں آپ کو ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی تفسیر قرآن دیتا ہوں آپ کے خیالات ٹھیک ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے وہ دونوں تفسیر میں لادیں جو اصل میں ترجمہ تھے اور کہیں کہیں تفسیر تھی بیعت کا فارم تکمیل کر کے بھیجنے سے قبل میں نے ان دونوں تفاسیر کا مطالعہ کیا۔تفسیر کبیر کے طالب علم میں اتنی اہمیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دیگر تمام تفاسیر پر تنقید سے کر سکے۔چنانچہ میں نے جیلر صاحب کو بلایا کہ ان دونوں تفاسیر میں کون کون مقامات مبہم ہیں۔کہاں کہاں ترجمہ کی غلطی ہے اور کہاں کہاں معنی محدود ہیں مجھے ایسا کرنے میں آسانی اس لیے ہوئی کہ تفسیر کبیر میں لغت قرآن بھی موجود ہے۔لا یمسئے الا المُطَهَّرُونَ صرف مظہر لوگ ہی قرآن کریم کے مطالب کو سمجھ سکیں گے۔جیلر صاحب ۲۴ گھنٹے اپنے سرکاری فرائض میں مشغول رہتے۔قرآن کریم کو دیکھنے کا بھی انہیں موقعہ نہ ملتا۔میری بات میں انہوں نے دلچسپی نہ لی۔پھر میں نے جبلیہ صاحب کو تفسیر کبیر کی پہلی جلد دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ کم از کم اس میں سے سورۃ فاتحہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں جو بہ شکل (۵۰) صفحات پرمشتمل ہے۔وہ لے گئے لیکن چند دن کے بعد یہ کیکر واپس کر گئے کہ مجھے تو پڑھنے کی فرصت نہ ملی۔البتہ میری خوشدامن صاحبہ یہ کتاب دیکھ چکی ہیں وہ اس کی بڑی تعریف کرتی ہیں۔میں نے بیعت کا فارم پُر کرکے بھیج دیا۔یہ تفصیل آپ کی خدمت میں اس لیے لکھی کہ مجھ پر سے یہ الزام دُور ہو جاتے کہ میں نے بیعت میں عجلت کی۔بیعت کا فارم بھیج کر میں دعاؤں میں لگ گیا کہ میری بیعت کے قبول ہونے میں کچھ رکاوٹیں ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو دُور فرمائے میرا اندیشہ غلط نہ نکلا۔میری بیعت قبول کرنے سے پہلے حضور خلیفہ صاحب نے دریافت فرمایا کہ ایک احمدی مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حکومت وقت کا بھی وفادار رہے۔اور قانون کے اندر رہ کر کام کرے۔میں نے جواب دیا کہ حضور کی تفسیر نے یہ ساری باتیں میرے دل پر نقش کر دی ہیں۔کچھ دنوں کے بعد جب قادیان سے مجھے معلوم ہوا کہ میری بیعت قبول کر لی گئی تو میں سجدہ میں گر گیا۔