سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 14
کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :- بعض نوجوانوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کی ہے۔چونکہ ایک حد تک کام میں ایک دوسرے کے ذوق کا منا بھی ضروری ہوتا ہے۔اس لیے شروع میں میں نے انہیں یہ اجازت دی ہے کہ وہ ہم ذوق لوگوں کو اپنے اندر شامل کریں، لیکن میں نے انہیں یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو باقی لوگوں کو بھی اپنے اندر شامل کریں۔مگر میں نے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوتے کہ نو جوانوں میں کام کرنے کی روح پیدا ہو یہ ہدایت کی کہ جو لوگ جماعت میں تقریر و تحریر میں خاص مہارت حاصل کر چکے ہوں۔ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے جس کی وجہ سے بعض دوستوں کو غلط فہمی بھی ہوتی ہے۔چنانچہ ہماری جماعت کے ایک مبلغ مجھ سے ملنے کے لیے آئے اور کہنے لگے۔کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟ میں نے کہا میں تو ناراض نہیں۔آپ کو یہ کیونکر وہم ہوا کہ میں ناراض ہوں وہ کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ میں میری شمولیت کی اجازت نہیں دی میں نے کہا یہ صرف آپ کا سوال نہیں۔جس قدر لوگ خاص مہارت رکھتے ہیں ان سب کی شمولیت کی میں نے ممانعت کی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بڑے آدمیوں کو بھی اُن میں شامل ہونے کی اجازت دیدی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پریذیڈنٹ بھی اپنی کو بنائیں گئے۔سیکرٹری بھی اپنی کو بنائیں گے مشورے بھی انسی کے قبول کریں گے۔اور اس طرح اپنی عقل سے کام نہ لینے کی وجہ سے وہ خود بڑھو کے بدھو رہیں گے۔۔۔۔۔پس میں نے انہیں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے سے روک دیا۔میں نے کیا تم مشورہ بے شک لومگر جو کچھ لکھو وہ تم ہی لکھو، تاتم کو اپنی ذمہ داری محسوس ہو۔گواس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شروع میں وہ بہت گھبراتے۔انہوں نے ادھر ادھر سے کتابیں ہیں اور پڑھیں۔لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں مضمون لکھے اور بار بار کائے مگر جب مضمون تیار ہو گئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ دوسرے مضمونوں سے دوسرے نمبر پر نہیں ہیں۔۔۔۔۔اگر اس قسم کے علمی کام یہ انجمنیں کریں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اسلامی تاریخ کی کتا ہیں۔اسلامی تفسیر کی کتا ہیں۔حدیث کی کتا ہیں۔فقہ کی کتاب ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی کتابیں اور اسی