سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 131 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 131

۱۳۱ پیش کیا جس میں حضور کی صحت یابی پر خوشی کا اظہار اور حضور کے اس سفر کے ذریعہ پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا ذکر کرنے کے علاوہ یہ عہد بھی کیا کہ سب جماعتیں حضور کی صحت کے پیش نظر اقرار کرتی ہیں کہ اپنے جذبات کو ایک حد تک دبا کر بھی حضور کے آرام کے لیے ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی۔حضور نے اس ایڈریس کے جواب میں مندرجہ ذیل ولولہ انگیز خطاب فرمایا جس میں علاج معالجہ اور ڈاکٹروں کے تاثرات کا ذکر تو ضرور تھا مگر زیادہ زور اور توجہ ہمیشہ کی طرح غلبہ اسلام کی طرف تھی۔" میں ان تمام جماعتوں کے لیے دُعا کرتا ہوں جن کے نمائندے اس وقت کراچی میں تشریف لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرماتے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔چونکہ یہ ایک اہم موقعہ ہے اس لیے میں اس وقت کچھ ضروری باتیں کہنا چاہتا ہوں جو ان ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق ہیں جنہوں نے وہاں مجھے دیکھا ہے۔ڈاکٹر روسیو جن کا علاج تھا انہوں نے مجھے ایک بات کہی ہے۔یوں تو یورپ کے بعض دوسرے ممالک میں اور بھی کئی ڈاکٹروں نے مجھے دیکھا ہے۔جرمن ڈاکٹروں نے بھی دیکھا ہے۔انگریز ڈاکٹروں نے بھی دیکھا ہے، لیکن اصل علاج ڈاکٹر روسیو کا تھا جو زیورک کے یونیورسٹی ہاسٹل کے میڈیکل ڈائریکٹر ہیں۔پہلے بھی انہوں نے مجھے متواتر کیا تھا مگر چلتے وقت انہوں نے خصوصیت سے کہا کہ یہ بات ایک بار پھر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک معین طاقت رکھی ہے اور وہ اس طاقت کے مطابق کام کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔آپ نے اپنی گذشتہ عمر میں نارمل حالت سے ڈیڑھ سو فیصدی زیادہ کام کیا ہے اب میں آپ کی بیماری کی آخری حالت کو دیکھ کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر پہلے آپ نارمل حالت سے ڈیڑھ سو فیصدی زیادہ کام کر چکے ہیں تو اب ایک نارمل آدمی کی صلاحیت کے مطابق کام کریں لیکن اس سے زیادہ کام نہ کریں آپ کو اب آرام کی زیادہ ضرورت ہے۔آپ آرام کریں اور طبیعت کو ہمیشہ خوش رکھیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی صحت میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ ضائع ہو جائے۔دوستوں کو چاہیتے کہ وہ ایک دوسرے کو یہ باتیں اچھی طرح سمجھا دیں تاکہ ڈاکٹری مشورہ کے مطابق وہ میری صحت کے لیے کسی تشویش کا موجب نہ نہیں۔اس کے بعد حضور نے مغرب میں تبلیغ اسلام کے موضوع پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا اور بتا یا کس طرح ان لوگوں کے دلوں میں