سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 128
کریں اور یہ کہ صرف اسی صورت میں دنیا ایتمی تباہی سے بچ کر امن حاصل کر سکتی ہے۔اس خطاب میں لندن کے میئر ، پاکستان کے ہائی کمشنر پارلیمنٹ کے نمبر اور متعد د دوسری سر بر آوردہ شخصیات نے شرکت کی۔حضور ۲۶ اگست کو لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔۲۹ تاریخ کو ڈاکٹر روز ویر نے حضور کا آخری معائنہ کر کے حضور کی صحت کو پوری طرح تسلی بخش قرار دیا۔۳۱ اگست کو زیورج کے ایک مشہور علمی ادارہ FREEC SOYCEAM میں اسلام کی روح اور اس کے بنیادی اُصول" کے عنوان پر ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔۵ ستمبر کو حضور بخیر و عافیت کراچی پہنچے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک خیر مقدمی تار دیا۔قادیان اور ربوہ میں اس موقعہ پر خوب چراغاں کیا گیا اور خوشی منائی گئی۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خانصاحب کی خصوصی خدمات : اس سفر میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بطور خاص خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ان کا تجربہ اور مشورے کئی لحاظ سے بہت مفید ثابت ہوئے۔حضور نے ان کی خدمات کی قدر کرتے ہوئے متعدد مرتبہ ان کی تعریف فرمائی ایک موقعہ پر حضور اپنی کئی سال پرانی خواب کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور چوہدری عبداللہ خان صاحب اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب حضور کے پاس حضور کی طرف سر کر کے لیٹے ہوتے ہیں اور حضور انہیں اپنے بیٹے سمجھتے ہیں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :- " عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ساری عمر دین کی خدمت میں لگاتی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔میری بیماری کے موقعہ پر توالہ تعالی نے نہ صرف ان کو اپنے بیٹا ہونے کو ثابت کرنے کا موقعہ دیا بلکہ میرے لیے فرشتہ رحمت بنا دیا وہ میری محبت میں یورپ سے چل کر کراچی آئے اور میرے ساتھ چلنے اور میری صحت کا خیال رکھنے کے ارادہ سے آتے۔چنانچہ ان کی وجہ سے سفر بہت اچھی طرح کٹا اور بہت سی باتوں میں آرام رہا۔آخر کوئی انسان پندرہ بیس سال پہلے تین نوجوانوں کے متعلق اپنے پاس سے کس طرح ایسی خبر دے سکتا تھا۔دُنیا کا کون سا ایسا مذہبی انسان ہے جس کے ساتھ محض مذہبی تعلق کی وجہ سے کسی شخص نے جو اتنی بڑی پوزیشن رکھتا ہو جو چو ہدری ظفر اللہ خان صاحب رکھتے ہیں اس اخلاص کا ثبوت دیا ہو۔کیا یہ نشان نہیں ! مخالف مولوی اور پیر گالیاں تو مجھے دیتے ہیں مگر کیا