سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 105
۱۰۵ اعتراض کرتے ہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی از کراچی ۱۸/۴/۵۵ " الفضل ۲۳ را پریل شسته ) سفر کی غرض و غایت : ظاہر ہے حضور کا یہ سر علاج و آرام کی غرض سے تھا۔مگر جیساکہ حضور کی زندگی کا ہرلمحہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کا سارا آرام و سکون تبلیغ و ترقی اسلام سے وابستہ تھا۔اسی طرح اس موقع پر بھی یہ وصف خاص نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔حضور حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے نام خط میں بیماری اور بیرونِ ملک بغرض علاج جانے کے مشورہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے سفر کی غرض و غایت رحصول صحت و زندگی سے بھی زیادہ ) علیہ اسلام کے کام کی توفیق پانا سمجھتے ہیں حضور فرماتے ہیں :- مجھے جس دن فالج کا حملہ ہوا تھا اس سے ایک یا دو روز قبل آپ کو خط لکھ چکا ہوں اُمید ہے کہ مل گیا ہو گا۔اس دوران میں آپ نے اخباروں میں پڑھ لیا ہوگا کہ مجھ پر فالج کا حملہ ہوا۔اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لیے بھی امداد کا محتاج ہوتا ہوں۔دو قدم بھی چل نہیں سکتا۔گذشتہ سال دوستوں نے مشورہ کیا تھا کہ امریکہ علاج کے لیے جانا چاہیئے۔اور انہوں نے مل کر شوری میں بھی ایک چندہ کی سکیم بنائی تھی۔۔بیماری کے اس حملہ کے بعد زندگی کا تو سوال نہیں رہا۔کیونکہ زندگی کوئی اہم چیز نہیں ہے۔سوال یہ پیدا ہوگیا کہ میرا دماغ بیکار ہو گیا ہے۔نہ میں سوچ سکتا ہوں نہ میں تفصیلی طور پر کوئی سکیم اسلام کی فتح کی بنا سکتا ہوں۔نہ تفسیر لکھ سکتا ہوں۔اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں یورپ ہو آؤں۔تاکہ میں کام کے قابل ہو جاؤں۔ایسی حالت میں میں بیوی بچوں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔اس لیے سب کو ساتھ ہی لیے جا رہا ہوں۔انشاء اللہ۔لوگوں کی نگاہ میں اتنے بڑے قافلہ کو لے جانا عجیب معلوم ہوتا ہے جگر میرا یقین ہے کہ وہ عجیب خدا ان حالات میں بھی میرے لیے عجائب ہی دکھائے گا۔انشاء اللہ مشکلات رائی کائی ہو جائیں گی۔آسمان گرائے گا اور زمین اگاتے گی اور خدا کے فرشتے ہر جگہ پر انتظام کرتے پھریں گے۔کیونکہ آخر وہ میرے دوست اور ساتھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے