سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 104
اعتراضوں کا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی خلیفہ محنت کرتے کرتے بیمار ہو جاتے تو اس کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ علاج کے لیے باہر جاتے اور اگر وہ باہر جاتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ جماعت کو چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔اگر ان خبیثوں کے اعتراض میں کوئی صداقت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافت ایک لعنت ہے۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میرے با ہر علاج کرانے سے مجھے کوئی فائدہ ہوگا یا نہیں مگر مجھے اس بات کا یقینی علم ہے کہ جن منافق احمدیوں کے دل میں ایسا خیال گذرا ہے ان کے گھروں کو خدا تعالی برباد کر کے چھوڑے گا۔اور وہ ربوہ کی موجودگی اور ترقی میں اپنے گھروں کو برباد ہوتے دیکھیں گے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں سارے کارکن نکال کر اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ دو ڈاکٹر میرے ساتھ جارہے ہیں، لیکن ایک مزید ڈاکٹر کو ربوہ کے کام کے لیے میں نے خدمات وقف کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے اور وہ اس وقت ربوہ میں کام کر رہا ہے۔جو دو ڈاکٹر میں اپنے ساتھ لے جارہا ہوں ان میں سے ایک میرا بیٹا ہے جس کو میں نے اپنے خرچ سے پڑھوا کر احمدیہ جماعت کے لیے وقف کیا جب کہ سینکڑوں دوسرے ڈاکٹر اس خرچ پر دو مہینے کے لیے بھی آنے کو تیار نہیں تھے۔اگران معترضین کے دل میں دیانت ہے تو آٹھ سال کے لیے نہیں صرف چھ چھ مینے کے لیے اپنے رشتہ داروں کو خدمت جماعت کے لیے لے آئیں اور منور احمد سے دگنا گذارہ لے لیں۔اب بھی میں اسے اپنے خرچ پر لے جا رہا ہوں تاکہ وہاں و بڑے بڑے ہسپتالوں میں نئی دریافتیں سیکھ کر آئے اور ربوہ پہنچ کر جماعت کی خدمت کرے پس اس کا لے جانا بھی آپ لوگوں پر احسان ہے کیونکہ اس کا خرچ میں خود دے رہا ہوں اور اس کے علم کا فائدہ آپ کو پہنچے گا۔جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے دنیا کے آخر میں جنت بھی قریب آجائے گی اور دوزخ بھی قریب آجائے گی۔میں نے ساری عمر کوشش کی کہ قریب آتی ہوئی جنت میں تم داخل ہو جاؤ۔اگر تم میں سے بعض پھر بھی دوزخ ہی میں گھسنے کی کوشش کریں تو میں حسرت بھرے دل سے انا للہ ہی پڑھ سکتا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں خدا تعالیٰ تمہاری آنکھیں کھولے اور ان دشمنوں کی بھی آنکھیں کھولے جو احمدیت پر جھوٹے