سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 59 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 59

کر دیں تاکہ اس مبارک وجود کے قرب کی برکت سے میرا مولی مجھ پربھی رحم فرمادے ہاں شاید اس قرب کی وجہ سے وہ عقیدت کیش احمدی جو جذ بہ محبت سے لبریز دل لے کر اس مزار ب کر حاضر ہو میری قبر بھی اس کو زبان حال سے یہ کیسے کہ اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی اور وہ کوئی کلمہ خیر میرے حق میں بھی کہہ دے جس سے میرے رب کا فضل جوش میں آکر میری کوتاہیوں پر سے چشم پوشی کرے اور مجھے بھی اپنے دامن رحمت میں چھپا ہے۔۔۔۔پس میری جدائی حسرت کی جدائی تھی کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ میری صحت جو پہلے ہی کمزور تھی پچھلے دنوں کے کام کی وجہ سے بالکل ٹوٹ گئی ہے۔۔۔۔۔ادھر ایک تکلیف دہ سفر درپیش تھا۔جو ---- کام ہی کام کا پیش خیمہ تھا۔اور ان تمام باتوں کو دیکھ کر دل ڈرتا تھا اور کہتا تھا کہ شاید کہ یہ زیارت آخری ہو۔شاید وہ اُمید حسرت میں تبدیل ہونے والی ہو۔سمندر پار کے مُردوں کو کون لا سکتا ہے ان کی قبر یا سمندر کی تہ اور مچھلیوں کا پیٹ ہے یا دیار بعیدہ کی زمین جہاں مزار محبوب پر سے ہو کر آنے والی ہوا بھی تو نہیں پہنچ سکتی " الفضل ۱۶ اگست ۱۹۲۴ته ) تقریر امیر مقامی و دیگر منتظمین : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق مبارک تھا کہ آپ سفر پر روانہ ہوتے ہوئے اپنی غیر حاضری کے ایام کے لیے کسی کو امیر مقرر فرماتے جو جماعتی مفاد اور افراد جماعت کی بہبودی و خیر خواہی کو مد نظر رکھتا۔جیسا کہ جلد دوم میں ذکر ہوچکا ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بھی اپنے ہر سفر پر روانہ ہوتے وقت اس سنت پر ضرور عمل فرماتے۔اس دور رس نتائج و اثرات کے غیر معمولی سفر پر روانہ ہوتے وقت حضور نے اپنے بعد تمام امور اور انتظامات کی نگرانی کے لیے امیر حضرت مولوی شیر علی صاحب، نائب امیر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو مقرر فرمایا۔اس کے ساتھ ہی آپ نے مندرجہ ذیل حضرات پرمشتمل ایک چودہ رکنی مشاورتی مجلس بھی مقر فرمائی۔حضرت حجتہ اللہ نواب محمد علی خان صاحب - حضرت میر محمد اسحق صاحب - حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب - حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت قاضی امیر حسین صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حضرت ماسٹر عبد المغنی خان صاحب حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب۔حضرت مولوی فضل الدین صاحب وکیل - حضرت مولوی محمداسماعیل صاح فاضل حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب۔