سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 54 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 54

۵۴ سفر کو وسیلہ ظفر کہنے والے نے ایک ابدی سچائی تو ضرور بیان کی ہے۔مگر اس کے تخیل کی پرواز میں فتح و ظفر کی وہ وسعت و عظمت ہرگز نہیں ہوگی جو خدا تعالیٰ کی خاطر اختیار کئے جانے والے سفروں کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ایسے ہی ایک مقدس سفر کی مختصر رو تیداد آئندہ اوراق میں پیش کی جارہی ہے۔مقصد زندگی : حضور کی زندگی میں آپ کی تمام کاروائیوں کو ششوں اور تحریکات کا محور و مرکز اشاعت و تبلیغ اسلام نظر آتا ہے۔آپ کی خواہشات ، آپ کی دُعائیں ، آپ کی تقریریں آپ کی تحریریں غرض ہر ممکن طریق جو میسر آ سکتا تھا وہ تبلیغ کے لیے وقف تھا۔آپ خود فرماتے ہیں :- " جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے۔اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دُعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے میں ------ دُعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ منصب خلافت ص ) گویا احیاء دین و قیام شریعت کا جو بیج حضرت مسیح موعود کے مبارک ہاتھوں سے لگایا گیا تھا۔وه نشونما پاکر أَصْلُهَا ثَابِتُ وفَرْعُهَا فِي السَّمَاء کا مصداق بن گیا اور غیروں نے بھی ہوں۔اس کی تصدیق کی۔سفر یورپ کا مقصد : سید نا حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خدا داد منصب خلافت پر متمکن ہوتے ہی رہے زیادہ اسی نیک مقصد کی طرف توجہ دی اور جماعت میں تبلیغ و اشاعت کی ایک نئی روح پھونک دی۔اشاعت اسلام کے لیے دُعائیں۔جیسے۔مناظرے، مباحثے۔مباہلے۔تقاریر چیلنج اور مقابلے۔ہر طریقے یہ مہم کامیابی کے ساتھ رواں دواں تھی۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے عجیب کرشمے اور جلوسے قدم قدم پر