سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 44
کامیاب مقابلہ کیا۔تاہم معلوم ہوا کہ ابھی اور زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔اگر مکمل تربیت ہو تو ہماری جماعت کے لوگ زیادہ عمدگی سے کام کر سکتے ہیں۔ایسے حالات میں چونکہ مخالف اس طرح بھی نہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے اس لیے ایسے انتظام کی ضرورت ہے اور ہم خدا کے فضل سے ایسے منظم وانٹیر کور بنا سکتے ہیں کہ ہم سے سو سو گئی تعداد رکھنے والے لوگ بھی ویسے نہیں بنا سکتے۔پس ہمیں اس قسم کا انتظام کرنا چاہیتے۔اور یہی ضروری نہیں کہ اپنے جلسوں کا ہی انتظام کیا جائے۔بلکہ ایک آریہ بھی اگر تقریر کر رہا ہو اور کوئی اس میں دخل اندازہ ہو تو کور کے والنٹیرز کا فرض ہوگا کہ اسے روکیں ؟ رپورٹ مجلس مشاورت ۹۳۷ یه صفحه ۹۰ تا ۹۲ ) احمدیہ کور کے اغراض و مقاصد کو ہر وقت ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے کور کا مندرجہ ذیل عہد تجویز میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جو فرائض خُدا اس کے رسول اور خلیفہ وقت کی طرف سے مجھے پر عائد ہیں میں تا بمقدور انہیں سرانجام دینے کی کوشش کروں گا۔-۲- ملک میں نہ صرف خود امن سے رہوں گا بلکہ حتی الوسع دوسروں کو بھی اس کی تحریک کرونگا اور بغاوت و بدامنی کا ہمیشہ مقابلہ کروں گا۔باہمی مقدمات تنازعات اور فسادات سے ہمیشہ اجتناب کروں گا۔۴۔مسلمانوں سے خصوصاً اور دیگر بنی نوع انسان سے عموماً ہمدردی کروں گا۔احمدیہ والنٹیٹرز کور کے قواعد اور ضوابط کی ہمیشہ پابندی کروں گا۔" ) الفضل ۱۸ر اگست ۱۹۳۲ته ) ۱۹۳۵ دوسری تنظیم آل انڈیانی لیگ کے نام سے شاہ میں قائم ہوئی۔یہ پلی سیاسی نظم تھی جو جماعت احمد کے افراد کی کوششوں سے لاہور میں منظم کی گئی۔جماعت کو ایسی تنظیم قائم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے سید نا حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا: " میں جماعت کو سیاسیات بلکہ سیاسی امور کے مشابہ باتوں سے بھی روکتا رہا ہوں، لیکن موجودہ حکومت چونکہ صداقت اور راستی کے مقابلہ میں ایجی ٹیشن سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اور ایک شخص کے ہا تھ پر خواہ دس کروڑ انسانوں نے بیعت کر رکھی ہو پھر بھی اس کی آواز کو ایک فرد واحد