سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 364 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 364

۳۶۴ اس پیشگوئی کو جماعت کے کئی افراد مجھ پر چسپاں کیا کرتے تھے مگر میں سنجیدگی سے کبھی اس مسئلہ پر غور نہیں کرتا تھا۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بارہا بتایا ہے میں سمجھتا تھا کہ اگراس پیشگوئی کے مصداق کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ الہام الہی سے دعوی کرے تو مجھے اپنی طرف سے اس دعوای کی ضرورت نہیں۔اگر خدا میری زبان سے اس کے متعلق کوئی اعلان کرانا چاہیے گا تو وہ خود کرا لے گا۔اور اگر اس کے مصداق کے لیے کسی الہام کی ضرورت نہیں۔تو مجھے بھی کسی دعوای کی ضرورت نہیں۔بہرحال یہ ایک پیشگوئی ہے جس پر غور کر کے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں۔اگر اس کے لیے الہام کی ضرورت ہے تو میں بغیر الہام کے دعوی کر کے کیوں گنہ گار بنوں۔جسے الہام ہوگا وہ خود دعوی کر دے گا اور اگر اس کے لیے الہام کی ضرورت نہیں تو پھر دعوای کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہاں تک کہ جنوری ۹۳لہ کے دوسرے ہفتہ میں مجھے ایک رویا۔ہوا۔یہ رویا۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں مگر اس موقعہ پر میں وہ رویا۔ایک بار پھر دوستوں کو سُنا دیتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ میں ایک مقام پر ہوں۔جہاں جنگ ہو رہی ہے وہاں کچھ عمارتیں ہیں۔نہ معلوم وہ گڑھیاں ہیں یا ٹر نچز ہیں۔بہر حال وہ جنگ کیسا تھے تعلق رکھنے والی کچھ عمارتیں ہیں۔وہاں کچھ لوگ ہیں جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ آیا وہ ہماری جماعت کے لوگ ہیں یا یونہی مجھے ان سے تعلق ہے۔میں اُن کے پاس ہوں۔اتنے میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جرمن فوج نے جو اس فوج سے کہ جس کے پاس میں ہوں۔برسر پیکار ہے یہ معلوم کر لیا ہے کہ میں وہاں ہوں اور اس نے اس مقام پر حملہ کر دیا ہے اور وہ حملہ اتنا شدید ہے کہ اس جگہ کی فوج نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔یہ کہ وہ انگریزی فوج تھی یا امریکن فوج یا کوئی اور فوج تھی۔اس کا مجھے اس وقت کوئی خیال نہیں آیا۔بہر حال وہاں جو فوج تھی اس کو جرمنوں سے دینا پڑا۔اور اس مقام کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی۔جب وہ فوج پیچھے ہٹی تو جر من اس عمارت میں داخل ہو گئے۔جس میں میں تھا۔تب میں خواب میں کہتا ہوں۔دشمن کی جگہ پر رہنا درست نہیں اور بی مناسب نہیں کہ اب اس جگہ ٹھہرا جائے۔یہاں سے ہمیں بھاگ چلنا چاہیئے اس وقت میں رویا۔میں صرف یہی نہیں کہ تیزی سے چلتا ہوں بلکہ دوڑتا ہوں۔میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں اور وہ بھی میرے ساتھ ہی دوڑتے ہیں اور جب میں نے دوڑنا