سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 339
ht اسے ہندوستان کے احمد یو! ذرا غور تو کرو تمہاری اور تمہارے باپ دادوں کی قربانیاں ہی یہ دن لاتی ہیں۔تم شہید تو نہیں ہوتے مگر تم شہید گر ضرور ہو۔افغانستان کے شہدا۔ہندوستان کے نہ تھے مگر اس میں کیا شک ہے کہ انہیں احمدیت ہندوستانیوں ہی کی قربانیوں کے طفیل ملی۔مصر کا شہید ہندوستانی تو نہ تھا مگر اسے بھی ہندوستانیوں ہی نے نوید احمدیت سے روشناس کروایا تھا۔اب یورپ کا پہلا شہید کو ہندوستانی نہ تھا مگر کون تھا جس نے اس کے اندر اسلام کا جذبہ پیدا کیا۔کون تھا جس نے صداقت ی یہ قائم رہنے کی ہمت دلاتی ؟ بے شک ایک ہندوستانی احمدی۔اے عزیز و فتح تمہاری سابق قربانیوں سے قریب آرہی ہے مگر جوں جوں وہ قریب آگر ہی ہے تمہاری سابق قربانیاں اس کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔نئے مسائل نئے زاویہ نگاہ چاہتے ہیں نئے اہم امور ایک نئے رنگ کی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔اب ہماری سابق قربانیاں بالکل ویسی ہی ہیں جیسے ایک نوجوان کے لیے بچہ کا لباس۔کیا وہ اس لباس کو بین کر شریفوں میں گنا جا سکتا ہے یا عقلمندوں میں شمار ہو سکتا ہے اگر نہیں تو جان لو کہ اب تم بھی آج سے پہلے کی قربانیوں کے ساتھ وفاداروں میں نہیں گئے جا سکتے اور مخلصوں میں شمار نہیں ہو سکتے ---- اسے غافلو جاگو ! اے بے پروا ہو ہوشیار ہو جاؤ۔تحریک جدید نے تبلیغ اسلام کے لیے ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔مگر اب وہ کام اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ موجود چندے اس کے بوجھ کو اُٹھا نہیں سکتے۔مبارک ہے وہ سپاہی جو اپنی جان دینے کے لیے آگے بڑھتا ہے مگر بد قسمت ہے اس کا وہ وطنی جو اس کے لیے گولہ بارود مہیا نہیں کرتا۔گولہ بارود کے ساتھ ایک فوج دشمن کی صفوں کو تہ و بالا کر سکتی ہے مگر اس کے بغیر وہ ایک بکروں کی قطار ہے۔جیسے قصائی کے بعد دیگرے ذبح کرتا جائے گا۔تمہارے بیٹے۔ہاں بیٹوں سے بھی زیادہ قیمتی وجود جان دینے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔کیا تم اپنے مالوں کی محبت کی وجہ سے اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں مرتا ہوا دیکھو گے۔اگر وہ اس حالت میں مرے کہ تم نے بھی قربانی کا پورا نمونہ دکھا دیا ہو گا تو وہ اگلے جہان میں تمہارے شفیع ہونگے اور خُدا کے منصورہ میں تمہاری سفارشیں کریں گے لیکن اگر وہ اس طرح جان دینے پر مجبور ہوتے کہ ان کی قوم نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان کے وطن نے ان کو مدد نہ پہنچائی تو وہ شہید ہی ہونگے مگر ان کے اہل وطن کا کیا حال ہو گا۔دنیا میں ذلت اور عقلی ہیں ؟