سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 331
خود حضور نے اپنا طریق کار بتاتے ہوئے فرمایا : عوت میں نے ہدایا کو استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے مگر جب وہ میرے سامنے لاتے جاتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ ایک سے زیادہ چیزیں کیوں ہیں۔کیا جاتا ہے کہ یہ کسی نے تحفہ بھیج دیا تھا۔تو میں کہتا ہوں کہ ہمارے تعلقات توساری حیجات سے ہیں اس لیے ہمارے ہاں تو ایسی چیزیں روز ہی آتی رہیں گی اس لیے جب ایسی چیزیں آئیں تو کسی غریب بھائی کے ہاں بھیج دیا کرو۔ضروری تو نہیں کہ سب تم ہی کھاؤ۔اس سے غربامہ سے محبت کے تعلقات بھی پیدا ہو جائیں گے اور ذہنوں میں ایک دوسرے سے انس پیدا ہو گا۔الفضل ۷ار جنوری ۹۳۵ یہ پیار بھرا بیان سادہ زندگی کے علاوہ حضور کی سیرت کے بعض نہایت حسین پہلوؤں کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔لباس کے متعلق تو ہر احمدی جس نے حضور کو دیکھا ہے گواہی دے گا کہ آپ کا لباس نہایت سادہ تھا۔حضور کے بیان فرمودہ مندرجہ ذیل واقعہ سے بھی اس کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔کل ہی ایک عجیب اتفاق ہوا جس پر مجھے حیرت بھی آئی۔ایک دوست ملنے آتے اور انہوں نے ایک تحفہ دیا کہ فلاں دوست نے بھیجا ہے۔وہ ایک کپڑے کا تھان تھا۔اس کے ساتھ ایک خط تھا جس میں اس دوست نے لکھا تھا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ آتے ہیں اور کہا ہے کہ قمیصوں کے لیے کپڑے کی ضرورت ہے بازا ر سے لا دو۔اس پرمیں نے دریافت کیا کہ آپ صاف کپڑا پسند کرتے ہیں یا دھاری دار۔آپ نے اس کا کوئی جواب لفظوں میں تو نہیں دیا ، لیکن میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ دھاریدار آپ کو پسند نہیں۔اور اس خواب کو پورا کرنے کے لیے میں یہ کپڑا بھیجتا ہوں۔میں نے وہ تھان لا کر گھر میں دیا کہ کسی نے بھیجا ہے اور اس سے قمیصیں بنوائی جائیں۔انہوں نے اسے لے کر کہا کہ الحمدللہ چار سال کے عرصہ میں آپ نے قمیصوں کے لیے کپڑا نہیں خریدا تھا۔اور آپ کی پہلی قمیصیں ہی سنبھال کر اب تک کام چلایا جا رہا تھا۔یا ایک دو قمیصوں کے کپڑوں سے جو کوئی تحفہ کے طور پر دے جاتا تھا۔اب یہ مشکل دُور ہوئی۔توخود میں نے کپڑوں میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے " الفضل ۲ دسمبر ۹ ) یہ امور بیان پر تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں۔ان کا تفصیلی ذکر حضور کی