سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 314
تربیت پر زور دینے کے لیے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں۔اس کے ماتحت جو دوست اپنے لڑکے پیش کرنا چاہیں کریں ان کے متعلق میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت سے کہوں گا کہ انہیں تہجد پڑھانے کا خاص انتظام کریں۔قرآن کریم کے درس اور مذہبی تربیت کا پورا انتظام کیا جائے۔اور ان پر ایسا گہرا اثر ڈالا جاتے کہ اگر انکی ظاہری تعلیم کو نقصان بھی پہنچ جائے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی ظاہری تعلیم کو ضرور نقصان پہنچے اور نہ بظاہر اس کا امکان ہے۔لیکن دینی ضرورت پر زور دینے کی غرض سے میں کہتا ہوں کہ اگر ان کی دینی تعلیم و تربیت پر وقت خرچ کرنے کی وجہ سے نقصان پہنچ بھی جاتے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے۔اس طرح ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جو ان میں نئی زندگی کی روح پیدا کرنے والا ہو ر الفضل و دسمبر ۹۳ جود ہواں مطالبہ : چودہویں مطالبے کے سلسلہ میں حضور فرماتے ہیں :- " بعض صاحب حیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلانا چاہتے ہیں ان سے میں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشاء اور خواہش کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کریں۔۔۔۔۔وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کو سلسلہ کے لیے پیش کردیں۔موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض صیغوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو۔اور اس کے لیے ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جاتے کہ جو لوگ اعلی تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں۔پھر وہ کیسی لڑکوں کی حیثیت۔ان کی قابلیت اور انکے رجحان کو دیکھکر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کے لیے تیار کیا جاتے۔فلاں کو انجینئر نگ کی تعلیم دلائی جائے۔فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کے لیے بھیجا جاتے فلاں ڈاکٹری میں جائے۔فلاں ریلوے میں جاتے۔وغیرہ وغیرہ یعنی ان کے لیے الگ الگ کام مقرر کریں تاکہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کا کافی دخل نہ الفضل و دسمبر ة ) ہو جاتے "