سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 31 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 31

اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔جس قوم میں سچ نہیں اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں۔اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن کوئی چیز نہیں جس قوم میں محنت کی عادت نہیں اس قوم میں سیاست اور تمدن بھی نہیں۔گویا یہ تین معیار ہیں جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی۔ہمارے ملک میں بعض اور بھی اخلاقی خرا بیاں ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے مثلاً ہمارے ملک میں گالی دینے کا عام طور پر رواج ہے اور اس میں شرم و حیا سے کام نہیں لیا جاتا۔۔۔۔۔گالی دینے کی عادت ہی جب کسی شخص میں پیدا ہو جاتی ہے اس کا مٹانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح اور کئی قسم کی بُری عادتیں ہیں جو ہمارے ملک میں لوگوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ان عادتوں کو مٹا کر ان کی جگہ اگر نیک عادتیں پیدا کر دی جائیں تولا زنگا قوم کی اصلاح ہو سکتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کے ارکان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ نوجوانوں کی اصلاح کریں بلکہ ان کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کی اصلاحی شاخ الگ قائم کریں اور اس کے ذریعہ جو چھوٹی عمر کے بچتے ہیں ان کی تربیت کریں۔میں اس کے لیے بھی انشاء اللہ تعالی انہیں قواعد تیار کر دوں گا۔سر دست جو تین باتیں میں نے بتاتی ہیں۔ان پر عمل کرنا چاہتے یعنی بچوں میں نماز کی عادت پہنچ کی عادت اور محنت کی عادت پیدا کرنی چاہیئے محنت کی عادت میں آوارگی سے بچنا خود بخود آجاتا ہے" الفضل ۱۲۲ اپریل ۱۹۳۷ ) اسی طرح تہ کی مجلس مشاورت میں نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اطفال کے لیے میں نے ضروری قرار دیا ہے کہ انہیں موٹے موٹے دینی مسائل سکھاتے جائیں اور وہ باتیں بتائی جائیں جو مذہب کی بنیاد ہوتی ہیں۔اسی طرح میرا مقصد اطفال الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ کھیل کود میں بچوں کی نگرانی کی جائے۔یہ نہیں کہ انہیں کھیل کود روکا جائے۔بلکہ کھیل کود کے نامناسب اور گندے اثرات سے انہیں بچایا جائے مثلاً بعض دفعہ جب کسی لڑکے سے ہٹ نہیں لگتی تو ہاکی یا بیٹ کو گالی دے دیتا ہے۔بعض دفعہ بال کو گالی دے دیتا ہے۔بعض دفعہ فیلڈ کے متعلق کوئی ناشائستہ لفظ اپنی زبان سے نکال دیتا ہے۔۔۔۔۔۔اب یہ ایک نقص ہے جس کو دور کرنا خدام الاحمدیہ کا فرض ہے۔اور ان کا کام ہے کہ وہ بچوں کو اپنی نگرانی میں کھلائیں اور ---- دیکھیں کہ گالی تونہیں