سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 261 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 261

کی ظَالِماً او مظلوما کے ارشاد کی تعمیل برابر جاری رکھی۔آپ کی ہدایات و رہنمائی کے مطابق دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جماعت ہر ممکن طریق پر اس مشن کے حصول کے لیے برا بر کوشاں رہی۔منظومین کشمیر بھی خوب جانتے تھے کہ ان کا ہمدرد و غم خوار کون ہے۔ذیل میں درج ایک واقعہ سے اس امر پر سنجوبی روشنی پڑتی ہے۔نور الدین ولد مفتی ضیا الدین سرینگر عیسائی مشن کی طرف سے ایک پیچیدگی پیدا ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- " میں علماہ گدی نشینوں اور لیڈروں کے پاس امداد کے لیے گیا لیکن کسی نے میری مدد نہ کی اور عیسائیوں نے بذریعہ عدالت میرے چھوٹے بھائی پر قبضہ حاصل کر لیا۔اس کے بعد عیسائیوں نے میری ہمشیرہ کے حصول کے لیے کوشش کی جب میں نے سب طرف سے اپنے آپ کو بے یارو مددگار پایا تو میں نے اس کس مپرسی کی حالت میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کے حضور امداد کے لیے درخواست کی۔گو میں سُستی ہوں اور جماعت احمدیہ کے خیالات و عقائد سے متفق نہیں لیکن انہوں نے بروقت امداد فرمائی۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مقدمہ میں ہمیں کامیابی ہوئی۔عیسائیوں کی اپیل خارج ہوگئی۔) اخباره اصلاح سرینگر از اکتوبر ) حضرت مصلح موعود نے آل انڈیا کشمیر کیٹی کی صدارت سے جب استعفی دیا تو وہ مذکورہ کمیٹی کے شباب کا زمانہ تھا ہر تحریک بڑی عمدگی و سرعت سے جاری تھی۔نتائج حسب دلخواہ مکمل رہے تھے اور شاندار کامیابی آنکھوں کے سامنے اور یقینی تھی۔ایسے میں کشمیر کیٹی کے کام کو آگے بڑھانا اور ترقی دینا زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔مگر تاریخ آزادی کشمیر کا یہ عجیب سانحہ ہے کہ جیسے ہی حضور نے استعفیٰ دیا اور حضور کی جگہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو جو اپنی شہرت کے بام عروج پر نیچے ہوئے تھے۔صدارت کا کام تفویض ہوا تو اپنوں اور بیگانوں نے یہ ناقابل یقین نظارہ دیکھا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا سورج نصف النہار پر غروب ہو گیا۔علامہ صاحب نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں۔بے شمار مداحوں اور کارکنوں اور بے شمار وسائل و ذرائع کے باوجود اس کمیٹی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔جس سے آزادی کشمیر اور مسلمانوں کے اعلیٰ مقاصد کو زیر دست نقصان پہنچا۔یہی وجہ ہے کہ مخلص مسلمان لیڈروں اور پریس نے آل انڈیا کشمیر کیٹی سے حضور کی علیحدگی اور اس کمیٹی کو ختم کرنے کے متعلق بہت سخت لفظوں میں احتجاج کیا۔چنانچہ