سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 255 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 255

۲۵۵ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی شاندار خدمات جناب خواجہ حسن نظامی صاحب اپنے روز نامچہ مورخہ ۲۴ اکتوبرمیں تحریر فرماتے ہیں :- " کشمیر کے لیے ہر طبقہ اور ہر درجہ اور ہر فرقہ اور ہر عقیدہ کے مسلمانوں نے کام کیا لیکن سب سے زیادہ آل انڈیا کشمیر کیٹی کے اراکین اور صدر اور سیکرٹری نے کام کیا بعد میں احرار کمیٹی قائم ہوئی اور اس نے جتھے بھیجے۔اس کے بعد کشمیر کی ریاست مُجھک گئی اور صلح پر آمادہ ہو گئی جس کے لیے آج کل بات چیت ہو رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ احرار کمیٹی کی وجہ سے حکام ریاست صلح پر آمادہ ہوتے۔ہندو اخبارات لکھتے ہیں کہ مہاراجہ کشمیر نے اپنی سالگرہ کی خوشی میں مسلمان رعایا سے صلح کر لی ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور اس کے اراکین کی اندرونی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے۔بیشک احرار کمیٹی کے کام کا بھی اثر پڑا اور مہا راجہ کی سالگرہ کا بھی کچھ نہ کچھ اس سے تعلق ہے لیکن زیادہ تر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ولایتی پراپیگنڈہ کا ہے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر نے ممتاز مسلمانوں کے ذریعہ لندن میں کوشش کی، انگلستان کے بڑے بڑے اخباروں میں ریاست کشمیر کے مظالم کی اطلا میں شائع ہوئیں اور اخباروں نے ریاست کشمیر کو مطعون کیا اور مسلمان لیڈروں نے آل انڈیا کشمیر کیٹی کے صدر کی تحریک کی وجہ سے وزیر مہند پر زور ڈال اور وائسرائے نے ریاست کی حکومت پر زور ڈالا جب یہ نتیجہ نکلا۔آل انڈیا کشیر کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری اور اراکین کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس موقع پر مسلمانوں کو باہمی تفریق سے بچانے کی کوشش کی ورنہ بعض مسلمان ریاست کی حکمت عملی کا شکار ہو گئے تھے۔اور انہوں نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر اور سیکرٹری کی نسبت یہ لکھنا اور کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ صحیح عقیدہ کے مسلمان نہیں ہیں۔اس واسطے مسلمان ان کیسا تھ کام نہیں کر سکتے مگر آل انڈیا کشمیر کیٹی کے صدر اور سیکرٹری اور اراکین نے نہایت عقلمندی اور صبر وضبط سے کام لیا۔ورنہ بات بڑھ جاتی اور مسلمان آپس میں لڑنے لگتے اور کشمیر کی حمایت کا کام رک جاتا اور کشمیر کے مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم ہونے لگتے کیونکہ ریاست کے حکام مسلمانوں کی خانہ جنگی سے مضبوط ہو جاتے ؟ الفضل دار نومبر ۹۳ته )