سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 236
بر ۲۳۶ اسی سلسلہ میں حضور نے فرمایا :- اگر کامیابی یا ترقی کرنا چاہتے ہو تو جہاں خُدا کا حکم آوے اسے کبھی حقیر نہ سمجھو۔رسم و رواج کو جب تک خدا کے لیے چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہو گے تب تک نمازیں روزے اور دوسرے اعمال آپ کو مسلمان نہیں بنا سکتے۔جہاں نفس فرمانبرداری سے انکار کرتا ہے اسی موقعہ پر حقیقی فرمانبرداری کرنے کا نام اسلام ہے۔اگر کوئی ایسا فرمانبردار نہیں ہے اور رسم و رواج کو مقدم کرتا ہے تو اس کا اسلام اسلام نہیں ہے۔الفضل يحكم ستمبر الله ) یہی وہ بنیادی امور ہیں جن پرعمل کرنے سے کشمیر اورمسلمانان کشمیر کی حالت میں ایک انقلاب پیدا ہوا۔برصغیر میں مظلومین کشمیر کی داد رسی کے لیے کوئی معین لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے حضور نے ایک سرکولر پنجاب اور دوسرے صوبوں کے سر بر آوردہ مسلمانوں کو بھجوایا اور بذریعہ تاربھی تحریک فرمائی کہ ۲۵ جولائی۔کو شملہ میں جمع ہو کر مظلوم کشمیری مسلمانوں کی امداد کے لیے ہر مکن تدبیر بروئے کار لانے کے لیے پروگرام تجویز کیا جائے مسلم اکابرین کے مشورہ و فیصلہ سے بھی پہلے فوری طور پر آپ نے مندرجہ ذیل اہم اور دور رس نتائج پیدا کرنے والے اقدامات کئے۔D احمد میشن لندن کو اس سلسلہ میں موثر احتجاج کرنے کی ہدایت فرمائی۔D روزنامہ الفضل کو مظلوم کشمیر یوں کے حق میں لکھنے کا ارشاد فرمایا۔۱۸ جولائی اللہ کو قادیان میں زبر دست احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔جس میں ڈوگرہ حکومت کے مظالم بیان کرتے ہوئے متعدد احتجاجی قرار دادیں پاس کی گئیں۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام : آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کے متعلق چوہدری ظہور احمد صاحب جنہیں مسلمانان کشمیر کی خدمت کا مختلف حیثیتوں میں ایک لمبے عرصہ تک موقعہ ملا۔لکھتے ہیں :- " ۲۵ جولائی اللہ کو نماز ظہر کے بعد FAIR VIEW (فیرولو) (نواب سر ذوالفقار علی کی کوٹھی میں اجلاس شروع ہوا جس میں امام جماعت احمدیہ۔ڈاکٹر سر محمد اقبال - نواب سر ذو الفقار علی خان - خواجہ حسن نظامی - نواب گنج پورہ سید حسن شاہ خان بها در شیخ رحیم بخش - مولانا اسماعیل غزنوی - مولانا عبد الرحیم در د- مولانا نور الحق سید حبیب شاہ اور نمائندگان ریاست د سرحد شامل ہوتے۔مولوی عبدالرحیم