سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 220
۲۲۰ تم نے کوئی انتظام نہیں کیا۔ہاں اگر چھ مہینے کے بعد بھی میں انتظام نہ کر سکا تو آپ بیشک مجھے الزام دیں۔انہوں نے کہا بہت اچھا چھ مہینے یا سال نہیں ہیں آپ کو ۱۸ مینے کی مہلت دیتا ہوں۔آپ اس عرصہ کے اندر یہ کام کر کے دکھادیں لارڈ ولنگڈن کہنے لگے وزیر ہند نے تو مجھے ۱۸ مینے کی مہلت دی تھی اور آپ مجھے کچھ بھی مہلت نہیں دیتے۔بلکہ چاہتے ہیں کہ فوری طور پر میں یہ کام کردوں۔میں نے کہا اگر سی بات ہے تو پھر جھگڑے کی کوئی بات ہی نہیں۔انہوں نے جو ۱۸ جینے کی آپ کو مہلت دی ہے میں آپ کو ۱۸ سال کی مہلت دینے کیلئے تیار ہوں۔بشرطیکہ آپ مجھے یقین دلائیں کہکشمیر کے مسلمانوں کی حالت سدھر جاتے گی۔انہوں نے کہا پانچ چھ ماہ تک مجھے حالات دیکھنے دیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں مجھ سے جو کچھ ہو سکا ئیں کروں گا۔اور کشمیر کے مسلمانوں کو ان کے حقوق دلانے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد بڑے بڑے واقعات ہوئے۔جن کو تفصیل کے ساتھ منایا نہیں جا سکتا۔بہر حال میں نے کوشش جاری رکھی۔یہاں تک کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسی طاقت عطا فرما دی کہ کشمیر کی گورنمنٹ سخت گھبرا گئی اور اس نے دو دفعہ مجھے پیغام بھیجا کہ آپ جموں آئیں اور مہاراجہ صاحب سے مل کر فیصلہ کر لیں۔آپس کی گفتگو کے بعد جن حقوق کے متعلق اتفاق ہوگا وہ کشمیر کے مسلمانوں کو دے دیتے جائیں گے۔میں نے کہا میرے فیصلے کا کوئی سوال نہیں کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ ہونا ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے نمائندے ہی کر سکتے ہیں۔میں نہیں کر سکتا۔میں یہ نہیں چاہتا کہ میں آؤں اور آپ سے باتیں کر کے کچھ فیصلہ کر لوں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے حقوق کا سوال ہے اُن کے نمائندوں کو بات کرنے کا موقعہ دیا جائے۔آخر وہی وائسرائے جنہوں نے کہا تھا کہ میں ان معاملات میں دخل نہیں دے سکتا۔جب بار بار اُن کو واقعات بتاتے گئے تو انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ کشمیر میں بہت سی خرابیاں ہیں۔جن کو دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔چنانچہ گورنمنٹ آف انڈیا نے بھی کشمیر گورنمنٹ پر زور دینا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سر بہری کشن کول جو وزیراعظم تھے نت