سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 196 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 196

194 لوگوں کو بھی جنگ کے شروع ہونے کا بھی یقین نہیں آتا تھا۔لوگ عام طور پر کتے تھے کہ شٹر ڈراوے دے رہا ہے۔یہ رویا۔دھرم سالہ میں جولائی ۹۳ہ کے آخر یا اگست کے شروع میں ہوئی اور وہ بھی ایسے رنگ میں کہ مارچ تک کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہٹلر غالب آجائے گا۔بالعموم یہ خیال کیا جاتا تھا کہ برابر کی ٹکر ہے۔مارچ کے آخر تک یہی حالت رہی۔مگر اس کے بعد جرمنی نے نہایت شدت سے حملہ کیا اور ڈنمارک ، ناروے، ہالینڈ اور بیلجیم پر قبضہ کر لیا۔پھر وہ فرانس کی طرف بڑھا اور اس پر بھی شدید حملہ کیا۔جب فرانس گرنے لگا تو اس وقت برطانیہ نے خیال کیا کہ اگر فرانس صلح نہ کرے تو کچھ نہ کچھ مزاحمت اس کی طرف سے جاری رہے گی۔اس کے جہاز بھی لڑتے رہیں گے اور اس کی نو آبادیاں بھی جنگ کو کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھیں گی۔لیکن اگر وہ صلح کرے تو اُس کے جہاز بھی جرمنی کو مل جائیں گے۔نو آبادیاں بھی اُسے مل جائیں گی اور اس صورت میں جرمنی کے حملے کا سارا زور ہم پر آپڑے گا۔چنانچہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت برطانیہ نے وہ کام کیا جس کی نظیر جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی آج تک نہیں ملتی یعنی اس نے ۱۷ جون ۱۹۱۲ تہ کو فرانسیسی حکومت کو تار دیا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے الحاق کر دیا جائے حکومت ایک ہو۔پارلیمینٹیں بھی ملا دی جائیں اور خوراک کے ذخائر اور خزانہ بھی ایک ہی سمجھا جاتے۔رلنڈن ٹائمز مورخه ۱۸ رجون ۹۴انه میں دنیا کے تمام تاریخ دانوں کو موقع دیتا ہوں کہ وہ دنیا کی تاریخ پر غور کریں اور اس قسم کی کوئی ایک مثال ہی پیش کریں کہ دوز بر دست طاقتوں میں سے ایک نے دوسری کے سامنے یہ تجویز رکھی ہو کہ دونوں حکومتوں کو ایک بنا دیا جائے۔یہ وہ واقعہ ہے جسکی آدم سے لیکر اب تک کوئی مثال نہیں ملتی اور جسکی ایک بھی مثال دنیا کی ہزاروں سال کی تاریخ میں نہ ملتی ہو۔اسے یقینا انسانی دماغ نہیں بنا سکتا۔اس وقت انگریزوں کی حالت اتنی خراب تھی کہ مسٹر چرچیل نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔اب وہ دن آگیا ہے کہ ہماری قوم پر جرمن حملہ آور ہوں یم سمندر کے کناروں پر جرمنوں کا مقابلہ کرینگے اور اگر سمندر کے کناروں پر مقابلہ نہ ہو سکا اور وہ اندر داخل ہوگئے تو ہم اپنے شہرمیں انکا مقابلہ کرینگے ہم لندن کی گلیوںمیں انکا مقابلہ کرنے اور اگر پر بھ ہم دشمن کا مقابلہ ہ کر کے اوروہ ہمارے ملک پر قابض ہو گیا تو ہم کینیڈا چلے جائینگے اور وہاں سےاسکا مقابلہ کرنے گویا برطانہ کا وزیراعظم بھی