سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 179
169 جلال الہی کا ظہور اور خُدائی نشانات : حضرت مصلح موعود ۹ہ میں مسند آرائے خلافت ہوتے آپ کو خُدائی کلام میں "عالم کباب قرار دیا گیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے موعود فرزند کے زمانہ میں ایک عالمگیر تباہی آنے کی پیش خبری بیان فرمائی تھی۔یہ مجیب خدائی تصرف ہے کہ تاریخ عالم میں جو سب سے خوفناک اور خونریز جنگیں ہوئیں وہ آپ کے زمانہ میں ہوئیں۔چنانچہ جنگ عظیم اول (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ م ) میں میں کم و بیش ایک کروڑہ افراد ہلاک ہوئے اور دو کروڑ سے زیادہ اپاہج ہو کر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو گئے (انسائیکلو پیڈیا اردو ص۳) اور نومبر کو جرمنی نے جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔۲۸ جون شاشاتہ کو وارسائی کے مقام پر معاہدہ صلح ہوا۔مگر یہ صلح کا معاہدہ ایسی شرائط پر طے پایا تھا جو مفتوحین کے ساتھ سراسر بے انصافی پر مبنی تھا اور جس میں جنگ عظیم ثانی کا بیج بو دیا گیا تھا۔حضور نے اس جنگ کے موقع پر جماعت کی رہنمائی اور جماعتی مفادات کا خیال رکھنے کیلئے ایک گیارہ رکنی کمیٹی مقرر فرمائی جس نے حضور کی ہدایات کے مطابق نہایت مفید کام سرانجام دیئے۔جنگ کا آغاز : جنگ عظیم دوم اپنی ہلاکت و خونریزی میں جنگ عظیم اول سے کئی گنا زیادہ خوفناک ثابت ہوئی۔اس جنگ میں جو ۱۹۳ سے ۱۹۳۵ یہ تک لڑی گئی جس میں ایک طرف جرمنی اور اس کے حلیف محوری ) اور دوسری طرف انگریز اور ان کے حلیف (اتحادی ) تھے۔- - اس جنگ کا آغاز جرمنی کے پولینڈ پر حملہ سے ہوا۔امتی یہ جرمنی نے بیجیم ہالینڈ ا لکسمبرگ پر حملہ کیا۔اس تاریخ کو چرچل برطانیہ کا وزیر اعظم بنا۔ارجون نہ اٹلی نے فرانس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔۱۳ جون نشانہ جرمنی نے پیرس پر قبضہ کر لیا ۲۲ جون نشسته فرانس نے ہتھیار ڈال دیتے۔6 دسمبر را شانہ بغیر کسی اعلان کے جاپان کی جنگ میں شمولیت۔۲۸ - اپریل ۱۹۴۵ تہ کو اٹلی میں مسولینی کے خلاف بغاوت ہوگئی اور اسے پھانسی دے دی گئی۔رمئی ۱ - جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے۔4 اگست ۱۹۴۵ہ امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کیا۔ور اگست ۹۴۵ہ - امریکہ نے جاپان کے شہر ناگا ساکی پر ایٹمی حملہ کیا۔۱۴ اگست ۱۹۴۵ ته جاپان نے بھی اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے۔