سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 138
۱۳۸ ضرت مصلح موعود کی ابتدائی تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعود کو مختلف رنگوں میں خدمت قرآن کی غیر معمولی توفیق حاصل ہوئی۔حقیقت تو یہ ہے کہ آسمان احمدیت پر ابھرتے ہوتے اس ستارے کی طرف اپنوں اور غیروں کی نظریں اسی وجہ سے اٹھنی شروع ہو گئی تھیں کہ آپ کی زبان و قلم سے قرآن مجید کے معارف خارق عادت طور پر اس طرح بیان ہوتے تھے جو ایک نوعمر کی استعداد سے بہت بڑھ کر تھے۔اس کے ساتھ ہی اگر یہ امر بھی پیش نظر رکھا جائے کہ حضرت مصلح موعود کی کمزوری صحت کی وجہ سے آپ کی تعلیم کا بخوبی اہتمام نہیں کیا جا سکا تھا۔تو معارف قرآنی کا بیان اور بھی غیر معمولی بات بن جاتی ہے۔اس امر کا کسی قدر تذکرہ پہلی جلد میں ہو چکا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے تین ماہ میں قرآن مجید اور دو ماہ میں بخاری شریف کی تعلیم مکمل کرلی تھی اور وہ بھی اس طرح کہ آپ کے محترم استاد (حضرت مولنا نورالدین خلیفہ ایسیح الاول خود جلد جلد پڑھتے جاتے تھے اور ان کا یہ شاگر د صرف سُن کر ہی سیکھ رہا تھا۔ظاہر ہے کہ یہ طریق اور عرصہ تعلیم اتناکم اور منحصر ہے کہ اس میں تو کسی علم کی بنیادی باتیں بھی نہیں سیکھی جاسکتی تھیں۔چہ جائیکہ قرآن و حدیث کے معارف و مطالب سیکھ لیے جائیں۔یوں لگتا ہے کہ تعلیم کا یکسی قدر اہتمام بھی محض رعایت اسباب کو ادب کا طریق سمجھتے ہوتے کیا گیا۔حضر مسیح موعود علیہ السلام بخوبی سمجھتے تھے کہ عظیم پیش خبر لوں کے اس مصداق کا معلم و مربی خود خدا تعالیٰ ہے اور وہی اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق آپ کو ظاہری و باطنی علوم سے پُر کر دے۔قرآن کا علم فرشتوں سے حاصل ہوا مذکورہ بالا مفر قسم کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی اصل تربیت تعلیم یعنی فرشتوں کے ذریعہ قرآنی علوم و معارف سکھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- " میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا۔مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لیے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جو کسی انسان کے وہم اور گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے وہ علم جو خدا نے مجھے عطا فرمایا اور وہ چشمہ روحانی جو میرے سینے میں چھوٹا وہ خیالی یا قیاسی نہیں ہے بلکہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ میں ساری دنیا کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس دنیا کے پردہ پر کوئی شخص ایسا