سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 87 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 87

AL وہ جتنا اسلام کو کیا گیا ہے۔ہ سلمان جو اپنے دل میں دین کی خدمت کرنے کی امنگ رکھتا ہے اور اس کے پاس اس کے لیے ضروری سامان اور علم بھی ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ مغربی لوگوں پر اسلام کی اصل حقیقت کو آشکارا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔اسلام کے مضبوط اور غیر متزلزل اصولوں کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے زمانہ کے اثرات اور اس کی تباہ کن کوششوں کا خوب دلیری سے مقابلہ کیا ہے اور اب بھی اس کی مضبوط بنیادوں کی یہ حالت ہے کہ اسلام کی وسیع عمارت کو صدمہ پہنچائے بغیر کسی زہریلے اثرات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ جزائر برطانیہ کے رہنے والے مسلمان اور خصوصاً جولندن کے رہنے والے ہیں وہ فرقہ بندی کے اختلافات سے اپنے آپ کو بالا قرار دیتے ہوئے اپنے ہم مذہبوں کے ایک گروہ کثیر کے لیے قابل تقلید نمونہ پیش کریں گے۔مجھے امید ہے کہ وہ اس مسجد کے وجود سے جو اسلام کے اصولوں پر روشنی ڈالنے کے لیے عیسائیت کے مرکز میں بنائی گئی ہے پورا فائدہ اُٹھائیں گے۔۔۔۔۔۔۔اب یہ بات اس ملک کے طالب علموں۔پیشہ وروں تاجروں اور مبلغوں کے اختیار میں ہے جو اسلام کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے ہونہار فرزند ہونے کا ثبوت دیں یا اس کو بدنام کرنے والے ہوں۔ان لوگوں کی اخلاقی اور روحانی حالت کا اندازہ ان کی روزمرہ کی زندگی کے حالات ان کے ایفائے عہد فرائض کی ادائیگی اور بنی نوع انسان سے دوستانہ سلوک سے لگایا جائے گا اور اسی سے ان کی مذہبی تعلیم کا اندازہ ہو سکے گا۔یہاں پر ایک مسجد بنا کر اور اس طرح مسلمانوں کی سوسائٹی کا ایک مرکزی نقطہ قائم کرکے ہمیں اپنے ایمانوں کی آزمائش کا موقعہ ملا ہے۔اب ہمارے نفس پر اسلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرض ہے کہ ہم اس آزمائش میں پورا اتریں " ( تواریخ مسجد فضل صفحه ۶۷-۶۸) مها را جه بردوان نے جو اس تقریب میں شامل تھے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : سچے ہندوؤں اور بچے مسلمانوں کے دل صاف ہیں جیسا کہ میرے دوست سر عبد القادر) خان بہادر آف پنجاب نے فرمایا کہ با وجود دوسرے اسلامی فرقہ کے ساتھ تعلق رکھنے کے میں نے یہاں آنا اور اس مسجد کی رسم افتتاح ادا کرنا جو کہ اس ملک میں احمدیہ سلسلہ کی انتہائی کامیابی کو ظاہر کر رہی ہے اپنا فرض خیال کیا ویسے ہی اسی جوش اور اسی روح کے ساتھ میں بھی بحیثیت ایک غیر مسلم ہونے کے کھڑا ہوا ہوں کہ میں احمدیوں کو اس بہت بڑے کام کے لندن میں