سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 86 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 86

AN انگلستان میں بلند ہو اور انگلستان کے لوگ بھی اس برکت سے حصہ پاویں جو نہیں ملی ہے۔آج 19 ربیع الاول ۱۳۳۳ ہجری المقدس کو اس مسجد کی بنیاد رکھتا ہوں اور خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس ادنی کوشش کو قبول فرما دوسے اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لیے اس مسجد کو نیکی تقوی ، انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بناتے اور یہ جگہ حضرت محمدمصطفیٰ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت احمد مسیح موعود نبی الله بروز نائب محمد علی الصلوۃ والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لیے روحانی سورج کا کام دے۔اے خدا ایسا ہی کر ۱۹ار اکتوبر ۱۹۲۳ افتتاح : الفضل ۱۵ نومبر 11 ۱۹ ) کم و بیش دو سال کے عرصہ میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس کے افتتاح کی تیاریاں شروع ہوئیں ویسے تومسجد کے افتتاح کی کسی رسمی تقریب کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم تبلیغی نقطہ نظر سے اس مسجد کو وسیع پیمانہ پر متعارف کرانے کے لیے افتتاح کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلہ میں کئی مسلم اکابرین کے ناموں میں سے خادم حرمین شاہ سعود کے ولی عہد امیر فیصل کو اس غرض سے مدعو کیا گیا جنہوں نے بخوشی اس تقریب میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے لندن کا سفر اختیار کیا۔جماعت انگلستان اور دوسرے مسلمانوں نے شہزادہ موصوف کا لندن پہنچنے پر شاندار استقبال کیا تاہم شہزادہ صاحب کسی غلط فہمی کی وجہ سے تقریب افتتاح میں شامل نہ ہوتے اور خدائی منشاء مصلحت کے مطابق لیگ آف نیشنز میں ہندوستان کے نمائندہ خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب روزیر پنجاب پریزیڈنٹ یجسلیٹو کونسل کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ آپ نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - - یکی جرات سے اس خیال کا اظہار کرتا ہوں کہ ہمیں اس کام کو فرقہ بندی کے کسی تنگ پیمانہ سے نہیں ناپنا چاہتے بلکہ اس پر کمال فراخ حوصلگی اور وسعت قلبی سے نظر ڈالنی چاہیئے۔میں جب مغربی لوگوں کی پاک فطرت کے سامنے اسلام کے احکام کو رکھنے اور اس کی خوبیوں کے اظہار کی اشد ترین ضرورت کا اندازہ لگاتا ہوں تو مجھے مختلف فرقوں کے اختلاف ایسے معلوم ہوتے ہیں جو آسانی سے نظر انداز کئے جاسکتے ہیں۔کسی مذہب کے متعلق استقدر غلط فہمیاں نہیں پھیلائی گئیں اور اس کو اتنا بدنام نہں کیا گیا