سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 65 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 65

۶۵ کے لیے کرنی پڑیں گی۔جو گذشتہ چار ماہ کے کام کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والے ہیں " الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۳ ) بمبئی سے بٹالہ تک حضور نے ریل گاڑی میں سفر کیا۔رستہ میں تمام بڑے بڑے سٹیشنوں پر افراد جماعت پروانہ وار حضور کی زیارت کی سعادت حاصل کرتے رہے۔قادیان کی جماعت نے بٹالہ سٹیشن پر اور پھر قادیان میں حضور کا والہانہ خیر مقدم کیا - ۲۴ نومبر بروز دوشنبه مبارک دوشنبه کو یہ نہایت مبارک سفر اپنے جلو میں عظیم الشان کامیابیوں اور کامرانیوں کو لیے ہوتے ایک وسیع تر تبلیغی پروگرام کے ارہاص کے طور پر اختتام پذیر ہوا۔اس سفر کے خوش قسمت رفقا کی خدمات اور ان کے اخلاص و محنت کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔میں اس سفر کے ساتھیوں کے متعلق بھی یہ اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ان سے ہوسکا انہوں نے کام کیا۔انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان سے بھی ہوتی ہیں۔میں ان پر بعض اوقات ناراض بھی ہوا ہوں مگر میری ناراضگی کی مثال ماں باپ کی ناراضگی سی ہے۔جو ان کی اصلاح اور اس سے بھی زیادہ پر جوش بنانے کے لیے ہوتی ہے۔مگر انہوں نے اچھے کام کئے اور بڑے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے اور میرے نزدیک وہ جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں۔خصوصاً اس لیے کہ میرے جیسے انسان کے ساتھ انہیں کام کرنا پڑا۔جب کام کا زور ہو تو میں چاہتا ہوں کہ انسان مشین کی طرح کام کرے نہ اپنے آرام کا اسے خیال آتے نہ وقت بے وقت دیکھیے۔جب اس طرح کام لیا جائے تو بعض اوقات اچھے سے اچھے کام کرنے والے کے ہاتھ پاؤں بھی پھول جاتے ہیں۔مگر انہوں نے اخلاص سے کام کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے لیے خصوصیت سے دُعائیں کی جائیں۔پھر میں سمجھتا ہوں ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر خصوصیت سے جماعت کی دُعاؤں کے اور شکریہ کے مستحق ہیں۔واقفیت کی وجہ سے انہوں نے اس سفر میں بہت کام کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی وجہ سے بھی سلسلہ کے کاموں میں بہت کچھ مدد ملی " الفضل دسمبر ۱۹۲۳ة ) دوران سفر کے بعض اہم ارشادات : اس مقدس سفر کی روئیداد بالعموم جماعت کے اولین بزرگ صحافی حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی محاسب