سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 58
اسلام کی فتوحات شروع ہونگی بعض دوستوں نے کہا بھی کہ میرے وہاں جانے سے کیا ہوا۔حالانکہ اول تو جماعت نے ہی مجھے وہاں بھیجا تھا۔میں خود اپنے ارادہ سے وہاں نہیں گیا تھا۔بلکہ مجھے تو خواب میں بعض مصائب و مشکلات بھی دکھائے گئے۔جو میری غیر حاضری میں ہمارے خاندان میں پیدا ہونے والے تھے لیکن با وجود اس کے جماعت کی کثرت رائے دیکھ کر میں وہاں گیا۔اور پھر میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جماعت یہ خیال نہ کرے کہ میرے وہاں جاتے ہی احمدی ہونا شروع ہو جائیں گے۔میں تو وہاں تبلیغ کے لیے حالات دیکھنے جاتا ہوں۔پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوا کہ میرے وہاں جانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ وہ فتوحات جو میرے وہاں جانے کے نتیجہ میں اب شروع ہوتی ہیں۔وہ کسی اور شخص کی طرف منسوب نہ ہوں اور اسلام پر کسی خاص شخص کا احسان نہ ہو بلکہ براہ راست حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب ہوں۔پھر میں کہتا ہوں کہ جب نبی بھی کوئی ایسا نہیں گذرا جس نے ایک دن میں فتح حاصل کی ہو تو ایک خلیفہ کو کس طرح ایک دن میں فتوحات مل سکتی ہیں، لیکن بہر حال اب تو اللہ کے فضل سے سلسلہ ایسی ترقی کر رہا ہے کہ ایک انگریز لکھتا ہے کہ اس سلسلہ کی ترقی کی نظیر پچھلی صدیوں کے کسی سلسلہ میں نظر نہیں آتی " تقریر جلسه سالانه ۲۷ دسمبر تا بحواله الفضل مورخہ ۱۴ جنوری تله ) قادیان سے روانگی کے وقت حضور کے جو جذبات تھے ان کا اندازہ آپ کے مندرجہ ذیل بیان سے ہو سکتا ہے۔صبح۔۔۔۔۔اس آخری خوشی کو پورا کرنے کے لیے چلا گیا جو اس سفرسے پہلے میں قادیان میں حاصل کرنی چاہتا تھا یعنی آقاتی دسیدی و راحتی و سروری و حبیبی و مرادی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مزار مبارک پر دعا کرنے کے لیے۔مگر آہ وہ زیارت میرے لیے کیسی افسردہ گن تھی۔۔۔۔۔۔یہ جدائی میرے لیے ایک تلخ پیالہ تھا اور ایسا تلخ کہ اس کی تلخی کو۔میرے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔میری زندگی کی بہت بڑی خواہشات میں سے ہاں ان خواہشات میں سے جین کا خیال کر کے بھی میرے دل میں سرور پیدا ہو جاتا تھا ایک یہ خواہش تھی کہ جب میں مرجاؤں تو میرے بھائی جن کی محبت میں میں نے عمر بسر کی ہے اور جنکی خدمت میرا واحد شغل رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مین قدموں کے نیچے میرے ہم کو دفن