سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 341
اسلام س کے قریب کھڑا کر دیا گیا ہے تاکہ جب ان سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اپنی جان کو قربان کرتے ہوتے آگ میں کود جاتیں۔چنانچہ جب قربانی کا وقت آئے گا اس وقت یہ سوال نہیں رہے گا کہ کوئی مبلغ کب واپس آئے گا اس وقت واپسی کا سوال بالکل عبث ہو گا۔دیکھ لو عیسائیوں نے جب تبلیغ کی تو اسی رنگ میں کی۔تاریخوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی حواری یا کوئی اور شخص کسی علاقہ میں تبلیغ کے لیے گیا تو پھر یہ نہیں ہوا کہ وہ واپس آگیا ہو بلکہ ہم تاریخوں میں یہی پڑھتے ہیں کہ فلاں مبلغ کو فلاں جگہ پھانسی دے دی گئی فلاں مبلغ کو فلاں جگہ قید کر دیا گیا۔ہمارے دوست اس بات پر خوش ہوا کرتے ہیں کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید نے سلسلہ کے لیے اپنی جان کو قربان کردیا حالانکہ ایک عبداللطیف نہیں جماعت کو زندہ کرنے کے لیے سینکڑوں عبداللطیف در کار ہیں جو مختلف ملکوں میں جاتیں اور اپنی جانیں اسلام اور احمدیت کے لیے قربان کر دیں۔جب تک ہر منگ اور ہر علاقہ میں عبد اللطیف پیدا نہیں ہو جاتے اس وقت تک احمدیت کا رعب قائم نہیں ہوسکتا۔جب سب لوگوں کو گھروں سے نکال کر ایک میدان میں قربانی کی آگ کے قریب کھڑا کر دیا جائے تا جب پہلی قربانی دینے والے قربانی دیں تو ان کو دیکھ کر خود بخود آگ میں گودنا شروع کر دیں اور اسی ماحول کو پیدا کرنے کے لیے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے۔" ) خطبه جمعه فرموده ۷ در نومبر - الفضل ٢ دسمبر ) یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس ولولہ انگیز خطبہ کے لیے حضور اس حال میں تشریف لاتے تھے کہ بوجہ درد نقرس آپ چلنے پھرنے بلکہ کھڑے ہونے تک سے بھی معذور تھے اور آپ ایک آرام کرسی پر بیٹھ کر جسے چند خدام نے اُٹھایا ہوا تھا مسجد اقصیٰ (قادیان میں پہنچ سکے تھے۔قومی مفاد کے لیے قربانی کی صیحیح روح کا تصور حضرت مصلح موعود کے نزدیک یہ تھا۔اصل چیز جس کا قائم رہنا ضروری ہے وہ اسلام اور احمدیت ہے ہر احمدی قصر احمدیت کی اینٹ ہے اور اگر کسی وقت کسی اینٹ کو اس لیے توڑ کر پھینکنا پڑے کہ قصر احمدیت کے لیے یہی مفید ہے تو اسے اپنی انتہائی خوش قسمتی سمجھنا چاہیئے۔دیکھو نیٹ جب تک مکان کی دیوار میں لگی رہے صرف اینٹ ہے ، لیکن مکان میں اگر کسی جگہ سوراخ ہو جاتے جس میں سے پانی اندر آنے لگے اور اس وقت ایک اینٹ نکال کر اسے پیا جائے اور اس طرح مصالحہ بنا کر سوراخ کو بند کر دیا جائے تو وہ اینٹ مکان بن جائے گی۔اسی