سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 340 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 340

هم سلام اس سوال کا جواب نہ دینا جواب دینے سے اچھا ہے۔اس دُنیا کی ذلت سے تو انسان منہ چھپا کر گزارہ کر سکتا ہے مگر اُس دُنیا میں وہ کیا کرے گا ؟ ذوق - ناقل ) نے خوب کہا ہے سے اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے جو ذلت صرف اس دنیا کے متعلق ہو موت اس سے نجات دے سکتی ہے مگر جو دونوں جہانوں سے متعلق ہو اس میں کیا فائدہ دے گی وہ تو کلنک کے ٹیکہ کو اور بھی سیاہ کر دے گی۔پس اے عزیز و ا کریں کسی لو اور زبانیں دانتوں میں دبالو - جو تم میں سے قربانی کرتے ہیں وہ اور زیادہ قربانیاں کریں۔اپنے حوصلہ کے مطابق نہیں دین کی ضرورت کے مطابق۔اور جو نہیں کرتے قربانی کرنے والے انہیں بیدار کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھل جو درخت بن گیا وہی پھل ہے جو کسی کے پیٹ میں جا کر فضلہ بن گیا اور اپنی نسل کو قائم نہ رکھ سکا وہ کیا پھل ہے۔خدا ہی اس پر رحم کرے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد گی که الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۲۶ جماعت کو غیر معمولی قربانیوں کی تلقین کرتے ہوئے اور تحریک جدید کے اجراء کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے حضور کا ارشاد ہے۔تحریک جدید سے میری غرض جماعت میں صرف سادہ زندگی کی عادت پیدا کرنا نہیں بلکہ میری غرض انہیں قربانیوں کے تنور کے پاس کھڑا کرنا ہے تاکہ جب ان کی آنکھوں کے سامنے بعض لوگ اس آگ میں کود جائیں تو ان کے دلوں میں بھی آگ میں گودنے کے لیے جوش پیدا ہو اور وہ بھی اس جوش سے کام لے کہ آگ میں گود جائیں۔اور اپنی جانوں کو اسلام اور احمدیت کے لیے قربان کر دیں۔اگر ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیتے کہ وہ باغوں میں آرام سے بیٹھے رہ ہیں تو وہ گرمی میں کام کرنے پر آمادہ نہ ہو سکتے اور بزدلوں کی طرح پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتے مگر اب جماعت کے تمام افراد کو قربانیوں کے تنور