سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 336 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 336

برابر حصہ لیتا رہا مگر بد قسمتی اور مالی تنگی کی وجہ سے فسادات کے بعد وعدہ نہ کر سکا۔۔۔۔میں حضور کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ از راہ ذرہ نوازی خاکسار کو تحریک جدید کے دفتر اول میں گذشتہ چار سالوں کا بقایا ادا کر کے قربانی میں شامل ہونے کی اجازت عطا فرمائی جائے حضور کی طرف سے اجازت ملتے ہی نگیشت رقم ادا کروں گا۔الفضل در ستمبر اثلة ) حضرت مصلح موعود اخلاص کی ایک عجیب ادا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" آج ہی باہر سے ایک شخص کا خط آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ شخص معمولی ملازم یعنی ڈاکیا ہے اس نے لکھا ہے کہ تراجم قرآن مجید کی تحریک میں قرآن مجید کا ایک زبان میں ترجمہ اور اس کی چھپوائی کا خرچ اور کسی ایک کتاب کا ترجمہ اور اس کی چھپوائی کا خرچ ۲۰۰۰۰ روپیہ دینے کی تو مجھے توفیق نہیں مگر خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اور کچھ نہیں تو ہمت کر کے ۲۸۰۰۰ پائیاں اس مد میں ادا کردوں۔۔۔۔۔میں نے حساب کیا ہے ۲۸۰۰۰ پاتیاں اس کی نو ماہ کی تنخواہ بنتی ہے۔بہر حال دیکھو یہ بھی خدا کے حضور قبولیت حاصل کرنے کا ایک رنگ ہے کہ جس شخص کو اٹھا میں ہزار روپیہ دینے کی توفیق نہیں تھی خدا تعالیٰ نے اس کے دل میں ۲۸۰۰۰ پاتیاں ادا کر کے ثواب حاصل کرنے کا خیال ڈال دیا اور ایک رنگ فضیلت کا اسے دے دیا۔۔۔۔۔یہ ایک مثال ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق دے دی اور اس کے ذہن میں ایک خیال پیدا کر دیا کہ اس پر عمل کرکے میں ثواب حاصل کروں " (الفضل ۲۵ جون ۱۱۶ وقف کی اہمیت و حقیقت ← جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے نگاہیں اسے میرے محسن ایسے انسان مجھ کو دیدے وقف زندگی کے سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضور نے اپنی خلافت کی ابتداء میں ہی دین کی خدمت کے لیے بے نفس کا رکنوں کو آگے بڑھ کر خدمات بجالانے کی تحریک فرمائی۔اس کے بعد بھی کئی مواقع پر حضور اس کار خیر میں شامل ہونے کی تحریک فرماتے رہے۔تحریک جدید کے آغاز کے ساتھ واقفین کا با قاعدہ نظام شروع ہوا۔ابتدائی خوش قسمت واقفین کی تعلیم و تربیت حضور کی ذاتی نگرانی میں ہوتی تھ