سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 319
کرتا ہوں کیونکہ خدا یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے تو پھر میں تمہیں زندہ کروں گا۔پس یہ موت ہی ہے جس کا میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں اور یہ موت ہی ہے جس کی طرف خدا اور اس کا رسول تمہیں بلاتا ہے اور یاد رکھو کہ جب تم مر جاؤ گے تو اس کے بعد خدا تمہیں زندہ کریگا پس تم مجھے یہ کہ کر مت ڈراؤ کہ ان مطالبات پر عمل کرنا موت ہے۔میں کہتا ہوں یہ موت کیا اس سے بڑھ کر تم پر موت آنی چاہیئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کافی امید تمہیں حاصل ہو۔پس اگر یہ موت ہے تو خوشی کی موت ہے۔اگر یہ موت ہے تو رحمت کی موت ہے۔اور بہت ہی مبارک وہ شخص ہے جو موت کے اس دروازہ سے گزرتا ہے کیونکہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے زندہ کیا جائے گا " ز الفضل ۲۲ اگست ۱۹۳۹ ت ) ہر قسم کی قربانی کے لیے ہر وقت پوری طرح تیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور ارشاد فرماتے ہیں "پس جو تحریکیں میں نے جماعت میں کی ہیں ان کی طرف میں ایک دفعہ پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کوئی شخص میری ان تحریکات کو اس رنگ میں نہ سمجھے کہ شاید کل ہی وہ دن آنیوالا ہے جب اسلام کی ترقی کے لیے جماعت سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔ہم تو کہتے ہیں اس دن کے آنے میں ابھی اور دیرہ ہو تا کہ ہمارے کمزور بھی تیاری کر میں اور ہم میں سے ہر شخص کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جاتے کہ وقت آنے پر ہم اپنے اموال۔اپنے اوقات اپنی جانیں اپنی اولادیں اپنی بیویاں اور اپنے دوست سب کچھ خدا کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں جس طرح سفر پر جانے سے پہلے لوگ اپنی پوٹلیوں اور اپنے ٹرنکوں میں اسباب بند کر کے بیٹھے جاتے ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ گاڑی کی سیٹی بجھے تو وہ اپنا اسباب اُٹھا کر ڈبے میں بیٹھ جائیں۔اسی طرح ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ دین کے لیے اپنی تمام چیزیں تیار رکھے الفضل و رمتى ٢٢) ایک اور موقعہ پر حضور نے فرمایا :- ---- اس امتحان میں ایک قوم ہم سے پہلے کامیاب ہو چکی ہے اور وہ مسیحیوں کی قوم ہے انہیں کامیابی تین سو سال کے بعد ہوئی جس عرصہ میں لاکھوں عیسائی قتل کیا گیا۔لاکھوں وطن سے بے وطن ہوا۔لاکھوں کے مال و اسباب لوٹ لئے گئے۔صدی کے بعد