سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 297 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 297

۲۹۷ پڑا اور آزادی کشمیر کے کارواں کی رفتار سست پڑگئی۔ہندوستان میں کسی بھی اسلامی تنظیم کا استحکام وترقی ہند و مقاصد کے خلاف تھا۔چنانچہ اس گروہ نے جماعت کی مخالفت شروع کر دی گویا اس نازک وقت میں ہماری جماعت کے لیے مخالفت کی ایک ایسی آگ بھڑکائی گئی جس کا ایندھن مہیا کرنے میں انگریزی حکومت کے بعض بااثر افراد ہندو ذہنیت ، ہندو سرمایہ اور ہندو پریس پیش پیش تھا۔اس تناظر میں حضرت مصلح موعودؓ نے تزکیہ نفس کے جہاد اکبر اور تبلیغ اسلام و اشاعت قرآن کے جہادِ کبیر کے لیے ایک نئی سکیم کا اعلان فرمایا جو بعد میں تحریک جدید کے نام سے مشہور ہوئی۔تحریک جدید کا آغاز : وہ پس منتظر جس میں تحریک جدید کا آغازہ ہوا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ ایچ الثانی رض فرماتے ہیں :- یہ تحریک ایسی تکلیف کے وقت میں شروع کی گئی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ساری طاقتیں جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لیے جمع ہو گئی ہیں۔ایک طرف احرار نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اس وقت تک سانس نہ لیں گے جب تک مٹا نہ لیں۔دوسری طرف جو لوگ ہم سے ملنے جلنے والے تھے اور بظاہر ہم سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے پوشیدہ بغض نکالنے کے لیے اس موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں سے انکی امداد کرنی شروع کر دی۔اور تیسری طرف سارے ہندوستان نے ان کی پیٹھ ٹھونکی۔یہاں تک کہ ایک ہمارا وفد گورنر پنجاب سے ملنے کے لیے گیا تو اسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا۔ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگایا ہے۔پندرہ سور و پیر روزانہ ان کی آمدنی ہے۔تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی نے بھی احرار کی فتنہ انگیزی سے متاثر ہو کر ہمارے خلاف ہتھیار اُٹھا لیے اور یہاں کئی بڑے بڑے افسر بھیج کر اور احمدیوں کو رستے چلنے سے روک کر احرار کا جلسہ کرایا گیا " تقریر فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۳۳ ) آپ نے ایک اور موقع پر فرمایا :- " گورنمنٹ نے جو ہماری ہتک کی یا احرار نے جو اذیت پہنچائی۔اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ ہمارے دلوں میں درد کی نعمت پیدا کر دی اور وہی بات