سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 286 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 286

۲۸۶ که به ایسا خود ساختہ واضح جھوٹ ہے جس کی تردید عقلی و نقلی دلائل اور ٹھوس واقعات اور حقائق کرتے ہیں بلکہ ہر غور کرنے والا اس ایک بات پر غور کر کے ہی سچ اور جھوٹ کے نمایاں فرق کو دیکھ سکتا ہے۔حضرت فضل عمرہ کی ساری زندگی اس ناپاک الزام کی تردید کرتی ہے۔حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بھی آپ نے بہت عمدہ نمونہ دکھایا اور اس میں کوئی کوتا ہی نہ ہونے دی گردو سری طرف حکومت کے غلط کاموں اور بے انصافی کی پوری جرات سے نشان دہی کی کشمیر کمیٹی کے قیام اور اس کے صدر کی حیثیت سے ڈوگرہ حکومت کو آپ نے ہلا کر رکھ دیا حالانکہ ریاستی حکومت کو انگریزی حکومت کی مکمل تائید و حمایت حاصل تھی۔ڈلہوزی میں حضور کے قیام کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے حضور نے عزت نفس کے خلاف سمجھا۔آپ نے وہاں سے فوری طور پر گورنر پنجاب کو بذریعہ تار اس بے جا طرز عمل کی طرف زور دار طریق پر توجہ دلائی۔قادیان واپس آکر اپنے خطبات میں بڑی تفصیل اور غیر معمولی جرات سے کام لیکر غیر ذمہ دار افسروں کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار فرمایا۔حکومت کی طرف سے آپ سے معذرت کی گئی مگر آپ نے اس کو کافی نہ سمجھتے ہوئے فرمایا کہ یہ میری عزت کا انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر ہندوستانی کی عزت کا معاملہ ہے اور معاملہ پبلک میں آچکا ہے اس لیے باقاعدہ تحریری معذرت ضروری ہے اور گورنمنٹ انگریزی کو اپنے سارے جاہ و جلال اور طاقت و جبروت کے باوجود حضور کا موقف تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ معذرت کرنی پڑی۔قادیان میں احرار کا نفرنس کے انعقاد کی اجازت دیگر جس طرح انصاف اور معاملہ نمی کا خون کیا گیا اس کا ذکر ہم پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔اس کے ساتھ اس جھوٹے الزام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے حضور کا مندرجہ ذیل اصولی بیان ہر حقیقت پسند کے لیے بہت کافی اور ہر طرح مکمل و تسلی بخش ہے۔مگر لوگ نادانی سے یہ خیال کرتے رہے کہ تم گورنمنٹ کے ایجنٹ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مفت بھی ایجنٹ ہوا کرتا ہے۔اور نہ صرف مفت بلکہ الیسا ایجنٹ بھی جس کو ادھر سے مار پڑے اور اُدھر سے بھی۔کیا کوئی ایجنٹ اس لیے کسی کی نوکری کیا کرتا ہے کہ تم بھی مارو اور تمہارے دشمن بھی ماریں۔اگر ہیں تو بتاؤ - گورنمنٹ نے ہمیں کیا دیا ہے۔سب سے زیادہ گورنمنٹ کی تائید میں لکھنے والا تو میں ہوں۔اگر یں گورنمنٹ کی تائید ذاتی یا قومی فوائد کے لیے کرتا ہوں۔تو یہ دیکھنا چاہیئے کہ میں نے یا میرے خاندان نے گورنمنٹ سے کیا حاصل کیا ہے۔میں تو گورنمنٹ کے بڑے بڑے انعام کو بھی اس کے مقابلہ میں نہایت ہی ادنی اسمجھتا ہوں۔جو مجھے خدا تعالیٰ نے دیا ہے مگر لوگ گورنمنٹ کے خطاب کو برا سمجھتے ہیں۔