سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 284
۲۸۴ میں فخر کرتا رہا۔بیدردی سے کچل دیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اسے پھر قائم کریں اور ثابت کر دیں کہ جو کہتا ہے ہم نے ان روایات کو قائم نہیں رکھا وہ غلط بیانی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایک ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جاتے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرا دیا ہے۔ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں ہمارے دل زخمی کر دیئے گئے ہیں۔ہم نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔کسی سے کچھ نہیں مانگا۔مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے۔اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ : لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابنِ آدم کیلئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔“ پس اے احمدی جماعت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنائے گا۔تمہارا فرض ہے کہ اپنے لیے خدا کے فضل سے آپ گھر بناؤ۔اس الہام میں یہی اشارہ ہے کہ یہ زمین اور آسمان تمہیں کانٹوں کی طرح کاٹیں گے۔آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے۔ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روارکھا جا رہا ہے۔کل پہرہ دینے والوں میں سے ایک خوش الحانی سے غالب کا شعر پڑھ رہا تھا کہ سے ) منی ۲:۸ ) دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اُٹھاتے کیوں میرے دل میں اس وقت خیال گذرا کہ یہ ہمارے حسب حال ہے۔ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوتے حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی۔رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے۔بلکہ اپنی مساجد ان کے حوالہ کر دیں۔اپنی بیش قیمت جائیدادیں ان کو دے کر ہم میں سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں۔مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی ہے۔اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے جو ہم پر اس قدر ظلم کئے جاتے ہیں۔گورنمنٹ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم بے شک صابر ہیں متحمل نہیں مگر ہم بھی دل رکھتے ہیں اور ہمارے دل بھی درد کو محسوس کرتے ہیں۔اگر اس طرح بلا وجہ انہیں مجروح کیا جاتا رہا تو ان دلوں سے ایک آہ نکلے گی۔جو زمین و آسمان کو ہلا دیگی۔جس سے خدائے قہار کا عرش ہل جائے گا۔اور جب خدا تعالیٰ کا عرش ہلتا ہے تو اس دُنیا میں ناقابل برداشت عذاب آیا کرتے ہیں ؟ ) الفضل میکم نومبر ) -۱۹۳۴