سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 254
۲۵۴ بلا واسطہ اس جرم کا مرتکب نہ ہوا ہو۔کشمیر کمیٹی نے انہیں دعوت اتحاد عمل دی مگر اس شرط پر کہ کثرت رائے سے کام ہو اور حساب با قاعدہ رکھا جائے۔انہوں نے دونوں اُصولوں کو ماننے سے انکار کر دیا۔اور میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صدر کشمیر کمیٹی نے تندہی ، محنت ہمت، جانفشانی اور بڑے جوش سے کام کیا اور اپنا روپیہ بھی خرچ کیا " د تحریک قادیان حصته اول صدا از سید حبیب مدیر سیاست لاہور ) " آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی معرفت ہماری شکایات سمندر پار کے مسلمانوں میں بھی زبان زد ہر خاص و عام ہوگئیں۔اس نزاکت حال کے پیش نظر حکومت کشمیر کے لیے ہماری شکایات کو ٹالنا اور بزور طاقت عمومی محرکات کو بلا فکر نتائج کچلتے چلے جانا مشکل ہو گیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پیم اصرار کے باعث حکومت ہند کا معاملات کشمیر میں دخل اندازہ ہونا ناگزیر ہو گیا۔۔۔۔۔نومبر راستہ کے آخری دنوں میں حکومت کشمیر اللہ کو مجبوراً مسلمانان ریاست کی شکایات اور مطالبات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کا اعلان کرنا پڑا۔یقین غالب ہے کہ اس کمیشن کے تقریر میں حکومت ہند کا بھی زبر دست دخل تھا۔“ کشمکش صفحه ۱۱۱ - ۱۱۲ مصنفہ چوہدری غلام عباس ) اعترافِ حقیقت میں نہ تو قادیانی ہوں اور نہ مرزا محمود احمد صاحب کا پیرو ہوں۔میں احمدی فرقہ کی لاہوری شاخ سے تعلق رکھتا ہوں جس سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے اہم اختلافات رکھتی ہیں، لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے میں یہ اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ کمیٹی متذکرہ کے سابق صدر کی اہم خدمات سے پبلک کو روشناس کراؤں اور خود بھی ان کا معترف ہوں کیونکہ انہوں نے کشمیر کے بے کسی مسلمانوں کو نہایت نازک مرحلوں میں مدد دی ہے اور اب بھی ان کو چاہ ضلالت سے نکال کر ترقی کی سطح پر لانے کے لیے شب و روز مصروف ربان ڈاکٹر مرزا لعقوب بیگ الفضل ۱۵ را گست مسلمة ) عمل ہیں۔