سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 213 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 213

۲۱۳ زندگی کا کوئی اعتبار ہی نہیں رہا تو کیوں نہ اس زندگی کو خدا تعالیٰ کے دین کے لیے خرچ کیا جائے۔اگر آج تم اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرو گے تو کل والی دنیا کو خدا تمہارے سپرد ) الفضل ۲۷ ستمبر ۱۹۳۵ة ) کر دے گا" یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ بعض سیاسی لیڈروں نے ظاہری حالات اور انگریزوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے عدم تعاون اور سول نافرمانی وغیرہ کی تلقین شروع کر دی تھی جو مادر وطن کی آزادی کے لیے کسی طرح بھی مفید نہ تھی۔حضور ایک دور اندیش مرتبہ کی طرح صحیح رہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ガ انگریزی قوم کا میلان اس وقت ہندوستانیوں کے متعلق اس قسم کا ہے کہ وہ آئندہ انہیں زیادہ سے زیادہ آزادی دیں گے اور یہ بالکل ناممکن ہے کہ انگریز اب ہندوستان کو پیچھے کی طرف لے جائیں اب ہندوستانی آگے کی طرف ہی بڑھیں گے اور یقیناً اس جنگ کے بعد جو ہندوستان کو آزادی حاصل ہو گی وہ اس سے بہت زیادہ ہو گی جو اب ہندوستانیوں کو حاصل ہے لیکن اگر اس جنگ میں انگریز ہار جائیں اور ان کی جگہ کوئی اور قوم آجاتے تو اس وقت ہندوستان کی وہی حالت ہو جائے گی جو غدر کے وقت تھی بلکہ اس سے بھی بدتر ہونے کا امکان ہے۔۔۔میرے نزدیک آج ہمیں اپنے تمام اختلافات کو بھول جانا چاہیتے اور انگریزوں سے پورا پورا تعاون کرنا چاہیے تاکہ جنگ کی بلائل جائے اور ہندوستان کے لوگ بھی اور برطانوی ایمپائر بھی انس عظیم الشان مصیبت ) الفضل ۶ اکتوبر ۱۹۳۹ ) سے بچ جاتے حضور کا یہ مشورہ حالات کے مطابق اور حکمت و مصلحت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا ورنہ ایک دور اندیش مسلم رہنما اور مدتیر کے طور پر حضور کو یہ بخوبی معلوم تھا کہ ہماری جماعت کا انگریزوں سے ایک وقت مقابلہ ناگزیر ہوگا۔چنانچہ حضور اس سے تھوڑا عرصہ قبل ہی یہ بیان فرما چکے تھے کہ :- ہم وہ حکم نظر انداز نہیں کر سکتے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر عائد ہوتا ہے (حکومت وقت کی اطاعت) اور نہ ہم وہ پیش گوئیاں نظر انداز کر سکتے ہیں جنہوں نے ہمیں آئندہ کا رستہ بتایا ہوا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آتے گا جب ہمیں انگریزی قوم کے ایک حصہ سے لڑنا پڑے گا۔مگر ہماری لڑائی مادی ہتھیاروں سے نہیں ہوگی۔- انگریز قوم کے ایک